مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے جس کے تحت اب قارئین کتاب کے اندر موجود چیٹ بوٹس سے براہِ راست سوال پوچھ کر کرداروں، کہانی، تاریخی پس منظر اور دیگر معلومات فوری حاصل کر سکتے ہیں۔

متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ایسے اے آئی فیچرز متعارف کرائے ہیں جو ای بکس پڑھتے یا آڈیو بکس سنتے وقت صارفین کو سوالات پوچھنے کی سہولت دیتے ہیں۔

ان ٹولز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف متعلقہ کتاب کے مواد کی بنیاد پر جواب دیتے ہیں جس سے قارئین کو معلومات کے لیے علیحدہ سرچ انجن یا دیگر ویب سائٹس کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔

فرانس کی اسٹارٹ اپ کمپنی مائی اسمارٹ بک اور سینائی اے آئی اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں جبکہ ایمیزون نے بھی اپنے کنڈل اور آڈیبل پلیٹ فارمز پر اسی نوعیت کے فیچرز متعارف کروا دیے ہیں۔

آڈیبل کا ’آسک اے کوئسچن‘ فیچر صارفین کو آڈیو بک سنتے ہوئے بغیر رکاوٹ کسی بھی بات کی وضاحت حاصل کرنے کی سہولت دیتا ہے جبکہ ِکنڈل کا ’آسک دِس بُک‘ فیچر ایک اے آئی ریڈنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

ادھر اے آئی وائس ٹیکنالوجی کمپنی الیون لیبز نے بھی ایسا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارفین کتاب کے ساتھ دو طرفہ گفتگو کر سکتے ہیں۔

تاہم اس نئی ٹیکنالوجی کی تیزی سے مقبولیت نے کاپی رائٹ اور مصنفین کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

سینائی اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کا نظام صرف ایسی کتابوں پر کام کرتا ہے جو پبلک ڈومین میں ہوں یا جن کے مصنفین یا ناشرین سے باقاعدہ لائسنس حاصل کیا گیا ہو۔

کمپنی کے مطابق اس نے ایسا نظام بھی تیار کیا ہے جس کے تحت اے آئی میں استعمال ہونے والی کتابوں کے حقوق رکھنے والوں کو مناسب معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب بعض پلیٹ فارمز صارفین کو کاپی رائٹ رکھنے والی کتابیں بغیر کسی اجازت یا تصدیق کے اپ لوڈ کرنے کی سہولت دیتے ہیں جس پر ناشرین اور مصنفین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر آتھرز گلڈ نے ایمیزون کے اے آئی ریڈنگ ٹولز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سہولتیں مصنفین اور ناشرین کے ساتھ لائسنسنگ معاہدوں کے بغیر استعمال کی جا رہی ہیں اور انہیں نہ تو اضافی آمدنی فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کتابوں کو اس نظام میں شامل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی سے لیس یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں مطالعے کو مزید آسان، معلوماتی اور انٹرایکٹو بنا سکتی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ دانشورانہ املاک کے حقوق اور مصنفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے واضح قوانین اور ضابطے بھی ناگزیر ہوں گے۔

Share On Social Media

KARACHI

سفارتخانہ پاکستان واشنگٹن میں مینگو فیسٹیول؛ امریکی و پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت

پاکستانی سفارت خانۂ واشنگٹن ڈی سی میں مینگو فیسٹیول میں امریکی و پاکستانی کمیونٹی نے

Read More

ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ جلد مکمل کرنے کا ہدف، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس سے کتنی سرمایہ کاری متوقع؟

حکومت پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجی شعبے کو منتقلی کے منصوبے پر

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.