بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری طلبہ کے احتجاج پر بولی ووڈ اور شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اس معاملے پر بھارتی فنکاروں کے بیانات کا ایک تانتا بندھ گیا ہے، جس میں کچھ مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ احتجاج کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد اس معاملے نے پورے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لاکھوں طلبہ سرکاری ملازمتوں، میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
بولی وڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ”یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے طلبہ ایک بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے ہیں اور ان کے والدین نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔ یہ ایک انتہائی پرامن تحریک تھی اور اس بات کا بہت دکھ ہے کہ اسے پرتشدد رخ اختیار کرنا پڑا۔ پرچہ لیک ہونا ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔“
اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی انسٹاگرام پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ”پچھلے چند دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے میرا دل توڑ دیا۔ لیکن طلبہ کی ہمت اور عزم نے مجھے امید دی ہے۔ میں طلبہ کے خوابوں اور ان کے اہلخانہ کی امیدوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔“



































