یمن: حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا، باب المندب بند ہونے سے کیا ہوگا؟

یمن کے حوثی گروپ انصار اللہ نے فوری طور پر سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ حوثی رہنماؤں کی جانب سے یہ اقدام پچھلے ہفتے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔

حوثیوں کا یہ نیا اعلان ایران کی حمایت یافتہ انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان جاری طویل جنگ میں ایک نئے اور خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے پہلے ہی توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ہللا کر رکھ دیا ہے۔

حوثیوں نے اپنے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی قرار دیا۔

حوثی قیادت نے اپنے بیان میں کہا کہ ”یہ فیصلہ آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر مبنی ہے اور یہ ہمارے عظیم عوام کا قانونی حق ہے کہ وہ محاصرے کا جواب محاصرے سے دیں اور ہر قسم کی کشیدگی کا مقابلہ اسی شدت کی کشیدگی سے کریں“۔

یمن کے دارالحکومت صنعا پر سال 2014 سے قابض اس گروپ نے سعودی قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ تقریباً 12 سالوں سے ان پر ایک ناانصافی پر مبنی اور ظالمانہ محاصرہ مسلط کیے ہوئے ہے، جس کے ذریعے ان کے وسائل لوٹے گئے اور ان کی زمینی، بحری اور فضائی حدود سمیت تمام بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی۔

حوثیوں نے اپنے تمام تر آپشنز کے لیے مکمل تیاری کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی غلط اقدام کا جواب انتہائی سخت دیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسلح محاذوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اس تمام تر تناؤ کی شروعات اس وقت ہوئی جب حوثیوں نے صنعا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا۔

اگرچہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکنا تھا۔

اس کے ردِعمل میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں سعودی اتحاد نے فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

ان واقعات کے بعد حدیدہ کے علاقے میں یمن کی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں جس نے پچھلے چار سال سے جاری عارضی امن اور بندی کے ماحول کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہ بات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے کہ حوثی اس بحری محاصرے کو عملی طور پر کیسے نافذ کریں گے یا کیا وہ یمنی ساحلوں سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کریں گے۔

بحرِ احمر کو خلیجِ عدن سے ملانے والی باب المندب کی تنگ سی آبنائے دنیا بھر کے لیے تیل کی برآمد کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔

رواں سال امریکا اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث اب اگر باب المندب میں بھی بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس سے دنیا بھر کی 25 فیصد تیل اور گیس کی فراہمی مکمل طور پر رک سکتی ہے۔

حوثیوں کے اس نئے اعلان سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد سے سعودی عرب نے اپنے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستے کے طور پر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال بڑھا دیا تھا، جو ملک کے مشرقی حصوں سے تیل کو بحرِ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک پہنچاتی ہے۔

ینبع کی بندرگاہ سے تیل بردار جہاز باب المندب کے راستے ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرتے ہیں۔

ڈیٹا کے مطابق پچھلے کچھ ہفتوں میں ینبع سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اس راستے سے بھیجا جا رہا تھا، لیکن حوثیوں کے اس نئے اعلان کے بعد سعودی عرب کے لیے اس متبادل راستے سے بھی تیل کی محفوظ منتقلی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

پاکستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ

Read More

ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی ٹاؤن ویسٹ کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ویسٹ سے اہم ملاقات

کراچی: یوتھ اسپورٹس اور کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کا اے آئی ایجنٹ سیکیورٹی توڑنے کے لیے خود ساختہ جعلی شناختیں بنانے لگا

برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی

Read More

کیموتھراپی کے بعد کینسر کی واپسی کا ایک نیا راز بے نقاب

امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.