بیرونِ ملک سے زیادہ رقم آنے کے باوجود پاکستان خسارے میں کیوں چلا گیا؟

مالی سال 2026 کے دوران ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہونے کے باوجود پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق درآمدات میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں معمولی بہتری کے باعث مالی سال کے اختتام پر 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جمعے کو جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، جب کہ گزشتہ مالی سال میں ایک ارب 84 کروڑ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرونی کھاتے پر سب سے زیادہ دباؤ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے نے ڈالا، کیوں کہ مالی سال کے دوران درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جب کہ برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں۔

مالی سال 2026 میں اشیا اور خدمات کی برآمدات 40 ارب 88 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں صرف 0.2 فی صد زیادہ ہیں۔ دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 76 ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 8.5 فی صد زیادہ ہیں۔

اس عرصے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 41 ارب 59 کروڑ ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 8.6 فی صد زیادہ ہیں، تاہم یہ اضافہ بھی بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا اثر زائل نہ کر سکا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی شعبہ تحقیق کی سربراہ ثنا توفیق نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بنیادی وجہ تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان کے مطابق درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا، جب کہ برآمدات خاطر خواہ بہتری نہ دکھا سکیں، جس کے باعث بیرونی کھاتہ دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سعد حنیف کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن دکھائی دیتا ہے اور یہ مجموعی قومی پیداوار کے صرف 0.03 فی صد کے برابر ہے، تاہم درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ایک تشویش ناک رجحان ہے، کیوں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی طلب تو بڑھ رہی ہے مگر زرمبادلہ کمانے کی رفتار اس کے مطابق نہیں۔

جے ایس گلوبل کے سربراہ تحقیق وقاص غنی نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتِ حال زیادہ خراب نظر نہیں آتی، لیکن اس کے پیچھے موجود عوامل زیادہ اہم ہیں، کیونکہ بیرونی کھاتے کا توازن اس وقت بڑی حد تک ترسیلاتِ زر کے سہارے برقرار ہے۔

صرف جون 2026 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، جب کہ مئی میں 50 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جون 2025 میں بھی 22 کروڑ ڈالر کا سرپلس سامنے آیا تھا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق جون میں درآمدات بڑھنے اور ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیاد پر کمی آنے کے باعث ماہانہ خسارہ بڑھ گیا، جس نے پورے مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ کو معمولی خسارے میں دھکیل دیا۔

Share On Social Media

KARACHI

آئین سے کھلو اڑ اور مرضی کی ترامیم سے ملک نہیں چل سکتا:حافظ نعیم

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف ایک تعفن

Read More

فیلڈ مارشل نے آگ کے شعلے بجھانے، مذاکرات کروانے میں تاریخی کردار ادا کیا: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آگ کے

Read More

TECHNOLOGY

آپ جس سم کے بغیر موبائل ادھورا سمجھتے ہیں، اس کا اصل نام کیا ہے؟ حیرت انگیز حقیقت

آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے

Read More

یورپی ممالک میں سرکاری سطح پر واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی کی تیاری، وجہ کیا ہے؟

یورپ میں سرکاری حکام کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کو محدود یا مرحلہ وار

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.