پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ’ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن‘کی بانی رکنیت حاصل کر لی ہے۔
شنگھائی میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے ساتھ ہی پاکستان مصنوعی ذہانت کے عالمی گورننس کے عمل کا باقاعدہ حصہ بن گیا ہے۔
اسحاق ڈار کی شنگھائی میں شرکت اور معاہدے پر دستخط
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو چینی ہم منصب وانگ ای کی دعوت پر دو روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں، نے شنگھائی میں منعقدہ تنظیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے بانی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد پاکستان باضابطہ طور پر اس اہم عالمی تنظیم کا بانی رکن بن گیا ہے۔
اے آئی گورننس اور پاکستان کا نقطہ نظر
اسحاق ڈار 17 جولائی کو ’گلوبل اے آئی گورننس‘ پر ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ اس پلیٹ فارم پر وہ مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ ترقی اور عالمی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے پاکستان کا قومی نقطہ نظر پیش کریں گے۔
یہ اجلاس مستقبل میں ٹیکنالوجی کے شفاف اور منصفانہ استعمال کے اصول طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور مستقبل کے امکانات
دورے کے دوران نائب وزیراعظم کی اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے ملاقات بھی شیڈول ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پاکستان کی دلچسپی اور چین کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عکاس ہے۔
حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اے آئی کو اپنانا مستقبل کی معاشی ترقی اور ڈیجیٹل جدت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ پیش رفت پاکستان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولے گی۔





































