اوپن اے آئی نے اُن محققین کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 ہزار ڈالر تک انعام کا اعلان کیا ہے جو اُس کے بائیوسیکیورٹی حفاظتی نظام کو عبور کرنے والا ایک ’یونیورسل جیل بریک‘ تیار کریں۔ یہ پروگرام نجی طور پر چل رہا ہے اور اس میں فی الحال جدید ماڈل GPT-5.6 کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ GPT-5.5 بھی 27 جولائی 2026 تک دائرہ کار میں رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایسے قابلِ استعمال طریقے تلاش کرنا ہے جو ماڈل کے حیاتیاتی حفاظتی میکینزم کو دوبارہ قابلِ استعمال طور پر عبور کر سکیں۔ کمپنی نے 9 جولائی کو بھی اعلان کیا تھا کہ مائیکروبیائی چیلنج پاس کرنے والے یونیورسل جیل بریک کے لیے 50,000 ڈالر تک کی رقم دی جائے گی۔
اوپن اے آئی نے جمعرات کو اپنے سب سے قابلِ قدر ماڈل GPT-5.6 کا آغاز کیا، جو پچھلے ماہ امریکی حکومت کی درخواست پر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے مؤخر ہوا تھا۔ اس ماڈل تک رسائی محدود اسٹریٹجک شراکت داروں تک محدود رکھی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی ہدایت نامہ منظور کیا ہے جس کے تحت فرنٹیئر ماڈلز کو قابلِ اعتماد شراکت داروں کو جاری کرنے سے پہلے حکومت کو اختیاری طور پر قریباً 30 دن پیش کیا جا سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کا “بائیو باؤنٹی” پروگرام اصولی طور پر GPT-5.6 کو کور کرتا ہے جبکہ GPT-5.5 کو بھی دائرے میں رکھا گیا ہے، اور یہ ماہرین کو حساس تحقیقاتی ماحول میں جدید AI ماڈلز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے مستقل حفاظت فراہم کرنے کا طریقہ پیش کرتا ہے۔
اصل GPT-5.5 باؤنٹی 23 اپریل 2026 کو شروع ہوئی تھی، جب محققین کو ایک کلین کوڈیکس ڈیسک ٹاپ سیشن سے بغیر فلیگ کیے 5 سوالات کے جوابات ایک پرامپٹ میں دینے تھے۔ اوپن اے آئی نے ابھی تک کامیاب سبمیشنز یا متعلقہ اصلاحات کا تفصیلی اعلان نہیں کیا ہے۔
ماڈلز کے فائلز، ای میلز، کوڈ اور کاروباری اطلاق تک رسائی بڑھنے کے ساتھ آڈٹ ٹریل، منظوری اور انسانی جائزے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ فی الحال اس پروگرام کی عوامی رپورٹنگ اور اسٹریٹیجک پوزیشننگ ہی بیرونی نگرانی کو شکل دے گی۔




































