مودی سرکار کے تمام ہتھکنڈے ناکام، فلم ’ستلج‘ کی اصل کہانی جو بھارتی مظالم کا عالمی اشتہار بن گئی

بھارت میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل اور اقلیتوں پر مظالم کی عکاسی کرتی فلم ’ستلج‘ نے انڈین سنسر بورڈ اور حکومتی پابندیوں کے باوجود دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔

او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے اچانک ہٹائے جانے کے بعد یہ فلم اس وقت واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ شیئر ہونے والی فلم بن چکی ہے، جس نے سکھوں پر ماضی میں ہونے والے مظالم کی سچی داستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر زندہ کر دیا ہے۔

فلم کا پس منظر اور اصل کہانی

یہ فلم 80 اور 90 کی دہائی میں انڈین پنجاب کے ہولناک اور تاریک ترین دور کی عکاسی کرتی ہے۔ فلم کی کہانی مشہور سکھ رہنما اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور ان کی بہادرانہ جدوجہد پر مبنی ہے۔

کہانی کا محور

بھارت میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات اور پنجاب میں شورش کے بعد، انڈین سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہزاروں سکھ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے لاپتہ کر دیا جاتا اور بعد میں ان کی لاشیں دریائے ستلج سے برآمد ہوتیں۔

جسونت سنگھ کھالڑا کا کردار

 جسونت سنگھ کھالڑا نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے امرتسر اور پنجاب کے دیگر اضلاع کے شمشان گھاٹوں کا ریکارڈ جمع کیا۔ انہوں نے ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ پولیس نے 25,000 سے زیادہ سکھ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا اور انہیں ’لاوارث‘ قرار دے کر ان کی آخری رسومات پوشیدہ طور پر ادا کر دیں۔

عالمی آواز اور انجام

جسونت سنگھ کھالڑا نے یہ معاملہ نہ صرف انڈین عدالتوں بلکہ بین الاقوامی سطح پر (بشمول کینیڈا اور امریکا) بھی اٹھایا۔ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح سچائی کو چھپانے کے لیے خود جسونت سنگھ کھالڑا کو بھی 1995 میں سیکیورٹی اداروں نے اغوا کیا اور بعد میں تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔

سنسر بورڈ کا تنازع اور نام کی تبدیلی

فلم اپنی تیاری کے وقت سے ہی بھارتی مقتدر حلقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بنی ہوئی تھی۔ ہنی تریہن کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا ابتدائی نام ’پنجاب 95‘ رکھا گیا تھا۔

تاہم انڈین سنسر بورڈ (سی بی ایف سی ) فلم پر سخت اعتراضات اٹھائے اور تقریباً 3 سال تک اس کی ریلیز کو روکے رکھا۔ طویل قانونی اور تکنیکی تنازعات کے بعد، فلم سازوں کو فلم کا نام تبدیل کر کے ’ستلج‘ رکھنا پڑا، جس کے بعد اسے ریلیز کی اجازت مل سکی۔

مرکزی کردار اور پروڈکشن

فلم کی حساسیت اور سنجیدہ موضوع کو دیکھتے ہوئے اس میں بہترین اسٹار کاسٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

 مرکزی اداکار

 مشہور پنجابی اور بالی ووڈ اسٹار دلجیت دوسانجھ نے جسونت سنگھ کھالڑا کا مرکزی اور انتہائی جذباتی کردار ادا کیا ہے۔ اس میں ان کے شریک اداکار فلم میں ارجن رامپال اور کنول جیت سنگھ نے بھی انتہائی اہم اور جاندار کردار نبھائے ہیں۔ اس سنجیدہ سوانح حیات کی ڈائریکشن ہنی تریہن نے دی ہے۔

ریلیز اور 48 گھنٹے کے اندر پابندی

فلم ’ستلج‘ کو 3 جولائی 2026 کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’زی فائیو‘پر ریلیز کیا گیا۔ لیکن ریلیز ہوتے ہی یہ انڈین عوام اور سکھ برادری میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

فلم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کی سچائی سے خوفزدہ ہو کر، بھارتی حکومت کے دباؤ اور نام نہاد سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر محض 48 گھنٹے بعد ہی اسے پلیٹ فارم سے یکسر ہٹا دیا گیا۔

پابندی کے خلاف ردِعمل

بھارتی حکومت کی جانب سے فلم کو دبانے کی کوششیں بری طرح ناکام ثابت ہوئیں۔ فلم کی دستیابی معطل ہونے کے بعد عوام نے اسے بڑے پیمانے پر ڈاؤن لوڈ کر لیا۔ اب یہ فلم گلی محلوں، نجی اسکرینز اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ اس سنسرشپ کے خلاف دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی نے کھل کر میدان میں آنے کا اعلان کیا ہے۔

 کمیٹی کے صدر ہرمیت سنگھ کالکا کا مؤقف ہے کہ ’جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی اس فلم کو عوام تک پہنچنے سے روکنا تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور سچے باب کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

ہم اس سرکاری جبر کو تسلیم نہیں کرتے اور اب اس فلم کی مختلف مقامات پر عوامی سطح پر نمائش کا اہتمام کیا جائے گا۔‘ بلاشبہ، فلم ’ستلج‘ پر لگنے والی پابندی نے اسے بھارت کے اپنے ہی عوام اور اقلیتوں پر کیے جانے والے مظالم کا ایک عالمی اشتہار بنا دیا ہے۔

فلم ’ستلج‘ کی اصل کہانی

یہ فلم محض ایک فکشن نہیں، بلکہ 1984 کے سکھوں کے خلاف بھارتی آپریشن ’بلیو اسٹار‘ اور سکھ مخالف فسادات کے بعد پنجاب میں شروع ہونے والی ’سفید فام دہشت ‘ کی وہ سچی داستان ہے جسے انڈین اسٹیٹ نے ہمیشہ چھپانے کی کوشش کی۔

ایک عام بینک مینیجر سے انسانی حقوق کا ہیرو

 جسونت سنگھ کھالڑا (جس کا کردار دلجیت دوسانجھ نے ادا کیا ہے) امرتسر میں ایک بینک مینیجر ہوتے ہیں اور وہ ایک پرامن زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان کے ایک قریبی دوست اور انسانی حقوق کے وکیل کو پولیس نے اٹھایا اور بعد میں ان کی تشدد زدہ لاش ملی، تو کھالڑا نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل عام کا انکشاف

فلم کا سب سے طاقتور حصہ وہ ہے جہاں جسونت سنگھ کھالڑا امرتسر، ترن تارن اور مجیتھا کے شمشان گھاٹوں کا دورہ کرتے ہیں۔ وہاں وہ میونسپل کارپوریشن کے رجسٹروں سے لکڑیوں کی خریداری اور لاوارث لاشوں کی آخری رسومات کا خفیہ ریکارڈ حاصل کرتے ہیں۔

وہاں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انڈین پولیس رات کے اندھیرے میں سکھ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھاتی تھی، انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرتی اور پھر ’نامعلوم یا لاوارث لاشیں‘ قرار دے کر ان کا سنسکار (آخری رسومات) کر دیتی تھی تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

25  ہزار ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سچ

فلم ’ستلج ‘ کھالڑا کی اس سنسنی خیز تحقیقات کو دکھاتی ہے جس میں انہوں نے صرف 3 اضلاع سے 25,000 سے زیادہ ایسے نوجوانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جنہیں پولیس نے جعلی مقابلوں میں مار دیا تھا۔

عالمی سطح پر آواز اور ان کا اپنا اغوا

’فلم ستلج‘ کی کہانی کا اختتام انتہائی جذباتی اور دردناک ہے۔ جب جسونت سنگھ کھالڑا کینیڈا اور بین الاقوامی فورمز پر یہ شواہد پیش کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہیں، تو انہیں انڈین پولیس کے اعلیٰ حکام کی طرف سے سنگین دھمکیاں ملتی ہیں۔

ستمبر 1995 میں جب وہ اپنے گھر کے باہر کار دھو رہے تھے، انہیں پنجاب پولیس نے اغوا کر لیا۔ فلم کا اختتامی منظر اس ہولناک سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ سچ بولنے والے اس ہیرو کو خود اسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا جس کے خلاف وہ لڑ رہے تھے اور ان کی اپنی لاش کو بھی ہری کے پتن (دریائے ستلج اور بیاس کے سنگم) میں بہا دیا گیا تھا۔

فلم کا نام ’ستلج‘ رکھنا بھی اسی داستان کی کڑی ہے، کیونکہ جسونت سنگھ کھالڑا سمیت ہزاروں سکھ نوجوانوں کی لاشوں کو تشدد کے بعد اسی دریا میں بہایا گیا تھا۔

سنسر بورڈ نے اسی لیے اس فلم پر پابندی لگائی کیونکہ یہ بھارت کے سیکیورٹی اداروں کے اس بھیانک چہرے کو دنیا کے سامنے لاتی ہے جسے وہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کہہ کر چھپاتے رہے ہیں

Share On Social Media

TECHNOLOGY

انڈس اے آئی ویک 2026: پی ٹی سی ایل جدید ترین اے آئی سہولیات کی نمائش کرے گی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) مصنوعی ذہانت کے قومی پلیٹ

Read More

ایلون مسک کی چاند پر شہر بسانے کی تیاری، کب تک تیار ہوگا؟

ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی شخصیت اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.