امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کر دیا، تہران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا نے ایران پر ایک اور بڑے فضائی حملوں کی لہر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جس سے خطے میں دوبارہ مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک اور بڑے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک روز قبل کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے اور اسے جون کے وسط میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد اب تک کی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

معروف عرب ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنوب مشرقی ایران کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک فائر فائٹر ہلاک ہو گیا، جبکہ تازہ امریکی حملوں میں ایرانشہر، بندر عباس، کنارک، چابہار، بوشہر اور شمال مشرقی ایران کے آق قلعہ کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے اضافی حملے شروع کیے ہیں، جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

سینٹکام کے مطابق امریکا ایران کو تجارتی بحری جہازوں اور ان کے عملے پر حالیہ حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، جنہیں ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے۔

اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے اطلاع دی کہ بندر عباس کے قریب فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا اور ’دشمن کے اہداف‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بعد ازاں ایرانی حکام نے فارس نیوز کو بتایا کہ چابہار میں بحری نگرانی کے کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو پر حملے کیے گئے، جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق آق قلعہ میں ایک ریلوے پل بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے چند گھنٹوں بعد مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں شروع کی گئی ’جوابی سزا‘ کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

آئی آر جی سی کے مطابق حملوں میں کویت میں واقع کیمپ عریفجان (Camp Arifjan) فوجی اڈے اور علی السالم ایئربیس (Ali Al Salem Air Base) کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی بیان کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جفیر (Juffair) اور شیخ عیسیٰ (Sheikh Isa) کے فوجی اڈے شامل ہیں۔

گزشتہ روز بھی 80 سے زائد اہداف پر حملے

امریکا نے منگل کو بھی ایران پر حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے مطابق بندر عباس اور بوشہر میں ہونے والے امریکی حملوں میں فضائیہ اور بحریہ کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔

جنگ بندی معاہدے کی تشریح پر تنازع

امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ معاہدہ لڑائی کے خاتمے، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر مشتمل تھا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظام جیسے پیچیدہ معاملات کو 60 روزہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

تنازع بنیادی طور پر معاہدے کی پانچویں شق پر ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنی بہترین کوششوں سے 60 روز تک خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔

ایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس شق کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے، جبکہ امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے۔

امریکی ماہر کی وضاحت

پینٹاگون میں نیٹو آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ ڈیس روشز نے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کی اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی کی، جبکہ ایران نے شہری جہاز رانی میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ان کے مطابق ایران نے بعض جہازوں پر حملے کر کے ایک نیا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی، جس کے تحت تمام بحری جہازوں کو ایرانی پانیوں سے گزرنا پڑتا، اور یہی اقدام صدر ٹرمپ کے لیے ناقابل قبول تھا، جس کے جواب میں یہ حملے کیے گئے۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ جواب دیا ہے اور مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا ’اگر وہ ایک حملہ کریں گے تو ہم اس کا 20 گنا جواب دیں گے۔‘

تاہم اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا جنگ دوبارہ شروع ہوگی اور اگر کچھ ہوا بھی تو وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

امریکا میں بھی مخالفت

امریکی حملوں پر صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین نے بھی شدید تنقید کی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شارجہ سے کراچی آنیوالا کارگو طیارہ سمندر میں گر کر تباہ، 2 پائلٹ سمیت 5 افراد جاں بحق

شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ بلوچستان کے ساحلی علاقے

Read More

سندھ منیمم ویجز بورڈ نے 60 صنعتوں کے ہنرمندوں کی کم ازکم اجرت میں اضافے کی سفارش کردی

کراچی:  سندھ حکومت نے 60 صنعتوں کے نیم ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ ہنرمند کارکنوں کی کم

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.