امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکی پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن انقرہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے معاملے پر بھی غور کرے گا۔ تاہم دونوں اقدامات کو امریکی قوانین کے باعث قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔ یہ پابندیاں 2020 میں ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد لگائی گئی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے بارے میں بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک شاندار طیارہ ہے، دنیا کا بہترین لڑاکا طیارہ، اور ہم اس معاملے پر ضرور غور کریں گے۔
امریکی صدر 11 برس بعد ترکی کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے، جہاں صدر رجب طیب اردوان نے ان کا شاندار سرکاری استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب میں گھڑ سوار ترک فوجیوں نے ٹرمپ کے قافلے کو صدارتی محل تک پہنچایا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے عوامی بیانات میں ایک دوسرے کے تعلقات کو سراہا۔
ترکی کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کرنے کے لیے امریکا کو 2020 کے اس قانون پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت صدارتی انتظامیہ کو یہ تصدیق کرنا ضروری ہے کہ ترکی اب روسی ایس-400 نظام اپنے پاس نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے استعمال کر رہا ہے۔
امریکا نے 2020 میں ’کاؤنٹرنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ‘ کے تحت ترکی کی دفاعی صنعت کے ادارے پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں امریکی برآمدی لائسنسوں پر پابندی اور مالیاتی و بینکاری پابندیاں بھی شامل تھیں۔ اسی تنازع کے باعث ترکی کو ایف-35 پروگرام سے بھی خارج کر دیا گیا تھا۔
صدر اردوان نے امید ظاہر کی کہ ایف-35 طیاروں کے معاملے میں امریکا مثبت فیصلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو ماضی میں 5 ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، لیکن پابندیوں کے خاتمے اور ایف-35 پروگرام میں ترکی کی واپسی کے لیے قانونی اور سیاسی رکاوٹیں فوری طور پر دور ہونا آسان نہیں ہوگا۔



































