امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ کارروائی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ اور ایران کو ’بھاری قیمت چکانے‘ پر مجبور کرنے کے لیے کی گئی، جبکہ ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران میں کئی مقامات پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف تازہ کارروائیوں میں 80 سے زائد اہداف کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس اور بحری میزائل صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی صلاحیتوں پر حملے کیے۔

امریکی فوجی بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے اندر اور اس کے اطراف موجود پاسداران انقلاب ایران کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ عالمی تجارتی راستے سے گزرنے والی بحری تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں واقع طاہروی (Taheroui) گھاٹ کے علاقے میں کم از کم چھ میزائل یا دیگر ہتھیار آ کر گرے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد یہ ایران کے خلاف پہلی معلوم امریکی فوجی کارروائی ہے۔

دوسری طرف ’الجزیرہ‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی  ہے کہ جنوبی ایران کے اہم تزویراتی علاقوں میں متعدد دھماکے ہوئے ہیں، جن میں بندرگاہی شہر سیریک، جزیرہ قشم، بندر عباس اور جزیرہ خارک شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

’زیادہ تر حملوں‘ کا نشانہ شہری علاقے بنے، جبکہ سیریک کی تجارتی بندرگاہ پر ایک حملے کے نتیجے میں گولوں کے ٹکڑے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ایران کا بحرین و کویت میں  85 امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان

ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی پر جاری بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی جارحیت کے ابتدائی جواب کے طور پر مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا گیا، جس میں دونوں ممالک میں قائم 85 اہم امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب کے مطابق حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحری بیڑے ففتھ فلیٹ کے اڈے اور کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوجی حکام نے کہا کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایران کے مطابق امریکا نے اس سے قبل ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں فوجی اڈوں اور غیر فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔

کویت کا میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنے کا اعلان

دوسری جانب کویتی فوج نے کہا ہے کہ ملک کو ’دشمن کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا سامنا ہے اور ان کے جواب میں دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔

کویتی فوج کے بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

کویتی حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو کامیابی سے روکنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے صوبہ بوشہر میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔  پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بوشہر کے علاقے خورموج کے قریب امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ صرف وہی ہوگا جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے کی سلامتی پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا ایک اور واقعہ۔

پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کراچی کے جنرل سیکرٹری راشد احمد صدیقی کے بیٹے سے

Read More

پراپرٹی سیکٹر کے ٹیکسوں میں بڑی کمی، ڈیلرز نے قیمتوں میں مزید اضافے کی پیشگوئی کردی

حکومت کی جانب سے بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف پیکج اور خرید

Read More

TECHNOLOGY

گرمی کے اس شدید موسم میں موبائل فون کو محفوظ رکھنے کے طریقے

شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان

Read More

گوگل نے میٹا پر جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.