13 چھاپے 9 گھنٹوں میں گرفتاری؛ پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کا مبینہ قاتل کیسے گرفتار ہوا؟

انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل میں ملوث ملزم سعد عباسی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل کو تلاش کرنا ایک چیلنج تھا، سعد عباسی کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے، ہم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 11 ٹیمیں تشکیل دیں، واقعے کے بعد 9 گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کیا، قانون کے تمام تقاضے پورے ہوں گے اور ملزم کو سزا ہوگی۔

اتوار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا، یہ واقعہ ہمارے لیے ایک چیلنج تھا، جس کی فوری تفتیش شروع کی، ان کے مطابق ملزم سعد عباسی اور خاتون نمرہ ایک ہی ادارے میں کام کرتے تھے اور پہلے بھی ملزم خاتون کو دفتر آنے جانے کے لیے موٹرسائیکل پر لاتا لے جاتا تھا۔

آئی جی کے مطابق واقعے کے روز ملزم خاتون کو اس کی مطلوبہ منزل کی بجائے ایک پارک لے جانا چاہتا تھا تاہم خاتون نے شدید مزاحمت کی اور اصرار کیا کہ اسے کیش اینڈ کیری ہی جانا ہے، مزاحمت کے باعث ملزم کو نائنتھ ایونیو پر موٹرسائیکل روکنا پڑی، جہاں دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم نے دیکھا کہ ملزم خاتون کو زبردستی موٹرسائیکل کی طرف کھینچ رہا ہے۔ وہ یوٹرن لے کر واپس آئے، گاڑی روکی اور ملزم کو خاتون سے پیچھے ہٹنے کا کہا۔

علی ناصر رضوی کے مطابق ملزم سعد عباسی پہلے موٹرسائیکل آگے لے گیا، پھر واپس آیا اور پستول سے فائر کر دیا، جو گروپ کیپٹن عاصم کو لگا۔ فائرنگ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے وہی کیا جو کوئی بھی باہمت شہری کسی خاتون کے ساتھ زبردستی ہوتے دیکھ کر کرتا۔ ان کے بقول ملزم کے سر پر ”شیطانیت سوار تھی“ اور وہ خاتون کو زبردستی پارک لے جانا چاہتا تھا۔

آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی کیوں کہ اس نے فرار کے بعد شرٹ تبدیل کر لی، موبائل سم کا ڈیٹا بند کردیا اور ایک دوسری شناخت کے ذریعے موبائل استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔

علی ناصر رضوی نے کہا کہ کیس کی تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، 275 سیف سٹی اور 100 نجی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، 137 کال ڈیٹا ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجی سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔

آئی جی کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزم کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی سراغ لگایا گیا، اسلام آباد میں 13 چھاپے مارے گئے جب کہ لاہور اور ایبٹ آباد سمیت مختلف شہروں میں بھی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔ جدید سیلولر ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کا مقام معلوم کیا گیا اور صرف 9 گھنٹوں میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

علی ناصر رضوی نے مزید بتایا کہ ملزم سعد عباسی کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ ماضی میں بھی ایک خاتون کو مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر میانوالی لے جا چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو تفتیش کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا گیا۔

Share On Social Media

KARACHI

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

کراچی کی مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی

Read More

مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.