مصنوعی ذہانت ذہنی صحت سمیت کئی شعبوں میں سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے، اقوام متحدہ سائنسی پینل رپورٹ

اقوام متحدہ کے آزاد سائنسی پینل کی پہلی جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیز رفتار ترقی دنیا بھر کے ممالک اور عوام کے لیے بے پناہ فوائد کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس کے ساتھ بڑے اور سنگین خطرات بھی وابستہ ہیں۔

40 ممتاز سائنس دانوں اور ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی یہ رپورٹ 6 اور 7 جولائی کو جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے پہلے عالمی مکالمے برائے اے آئی گورننس کے دوران حکومتوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ اے آئی سے متعلق پہلی عالمی اور آزاد سائنسی تشخیص قرار دی جا رہی ہے جبکہ اس حوالے سے مزید جامع رپورٹ آئندہ سال جاری کی جائے گی۔

رپورٹ تیار کرنے والے پینل کے اراکین کا تعلق دنیا کے مختلف خطوں سے ہے اور وہ کسی حکومت، ادارے یا کمپنی سے آزاد حیثیت میں 3 سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی سازوں کو مصنوعی ذہانت کے مؤثر نظم و نسق کے لیے سائنسی شواہد کی ضرورت ہے تاہم اے آئی کی صلاحیتیں سائنسی سمجھ بوجھ اور حکومتوں کی موافقت کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی خودمختار اے آئی نظاموں کو کنٹرول کرنے کے مؤثر طریقے اب بھی محدود ہیں۔

پینل کے شریک سربراہ یوشوا بینجیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دھوکہ دہی پر مبنی رویوں کے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سائنس اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ مستقبل میں اے آئی اپنی جانب سے یا بدنیتی پر مبنی صارفین کے ذریعے تباہ کن نقصان کا سبب نہیں بنے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوائد بے حد وسیع ہیں تاہم اس ٹیکنالوجی کا تیز رفتار اور غیر منظم پیمانے پر استعمال بڑے خطرات بھی پیدا کر رہا ہے جن میں صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات، تباہ کن مقاصد کے لیے استعمال، سماجی، معاشی اور ماحولیاتی نظاموں پر اثرات اور اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے سے متعلق چیلنجز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ دنیا بھر میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے تاہم مختلف ممالک اور شعبوں میں اس کی رفتار یکساں نہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ہر ہفتے مکالماتی اے آئی استعمال کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار نسبتاً کم ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اے آئی کی ترقی چند ممالک تک محدود ہے۔ دنیا کے 500 بڑے اے آئی سپر کمپیوٹرز کی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت میں امریکا کا حصہ 75 فیصد جبکہ چین کا 15 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں 7 ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن موجودہ اے آئی ماڈلز صرف محدود تعداد میں زبانوں کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ بعض زبانوں میں مشینی ترجمے کی غلطیاں صحت کی تشخیص اور علاج سے متعلق فیصلوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی انسانی حقوق، سماجی نظام اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے بڑے پیمانے پر مؤثر اور ہدفی مواد تیار کرنا آسان ہو گیا ہے جس سے معلومات کی ساکھ بتدریج کمزور ہونے، عوامی اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری عمل پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیشتر ممالک، حتیٰ کہ ترقی یافتہ معیشتیں بھی جدید ترین اے آئی ماڈلز کا مؤثر جائزہ لینے اور ان کی حکمرانی کے عمل میں بامعنی شرکت کے لیے مطلوبہ تکنیکی مہارت سے محروم ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں

Read More

ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ

اسلام آباد:  رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت  یا اے آئی کی دنیا میں اس ہفتے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا

Read More

ایپل کے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس آخری مرحلے میں داخل

ایپل نے اپنے آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ریلیز کینڈیڈیٹ ورژن جاری کر دیے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.