حکومت کی جانب سے بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف پیکج اور خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کے بعد ملک بھر کے ریئل اسٹیٹ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف شہروں کے پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف مارکیٹ میں دوبارہ سرگرمی آئے گی بلکہ جائیدادوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
حکومت نے پراپرٹی سیکٹر کے لیے تقریباً 115 ارب روپے کے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ کے تحت نان فائلرز کے لیے لیٹ فائلر کیٹیگری ختم کر دی گئی ہے جبکہ پراپرٹی پر عائد ڈیڈ انکم ٹیکس یعنی سیکشن 7E کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
نئے اقدامات کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ پراپرٹی فروخت کرنے پر عائد ٹیکس 5.5 فیصد سے کم ہو کر 2.75 فیصد رہ گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد لین دین کی لاگت کم کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ کے مطابق 5 کروڑ روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم ہو کر 2.75 فیصد رہ گیا ہے۔
اسی طرح 5 کروڑ روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد، 5 سے 10 کروڑ روپے مالیت کی پراپرٹی پر 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد اور 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد پر بھی خریداری ٹیکس کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
لاہور پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک صداقت نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی کے اثرات براہ راست مارکیٹ پر مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق بجٹ سے قبل ہی ٹیکسوں میں کمی کی افواہوں کے باعث مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی اور ڈی ایچ اے سمیت مختلف علاقوں میں خریداری کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ایک کنال پلاٹ کی خرید و فروخت پر خریدار اور فروخت کنندہ کو مجموعی طور پر 30 سے 35 لاکھ روپے تک اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے تھے، تاہم اب ٹیکسوں میں تقریباً 50 فیصد کمی آنے سے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو نمایاں ریلیف ملے گا۔
ملک صداقت کے مطابق اگر کسی علاقے میں طلب زیادہ اور سپلائی کم ہے تو وہاں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 6 کروڑ روپے مالیت کا پلاٹ 7 کروڑ روپے جبکہ 8 کروڑ روپے کا پلاٹ 9 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے کیے گئے دیگر اقدامات سے گھروں کی تعمیر اور خریداری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے کنسٹرکشن سیکٹر کو فائدہ پہنچے گا۔
دوسری جانب کراچی کے پراپرٹی ڈیلر اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما سعد لیاقت نے وی نیوز کو بتایا کہ سال 2024 کے بعد سے کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ پہلے ہی تیزی کا شکار ہے اور متعدد علاقوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 8 میں ایک کنال پلاٹ کی قیمت 10 سے 16 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ کلفٹن کے علاقوں میں بھی پلاٹوں کی قیمتیں 15 سے 16 کروڑ روپے تک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 کے اختتام پر یہی پلاٹس 9 سے 10 کروڑ روپے میں دستیاب تھے۔
سعد لیاقت کے مطابق حالیہ ٹیکس ریلیف کے بعد مارکیٹ میں مزید 5 سے 10 فیصد اضافے کا امکان ہے اور 15 کروڑ روپے کا پلاٹ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے مہنگا ہو کر ساڑھے 16 کروڑ روپے تک جا سکتا ہے۔
فیڈریشن آف ریئلٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر رانا محمد اکرم نے کہا کہ پہلے 5 سے 10 کروڑ روپے مالیت کی پراپرٹی پر خریدار 2 فیصد جبکہ فروخت کنندہ 5 فیصد ٹیکس ادا کرتا تھا۔ 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی پر خریدار ڈھائی فیصد اور فروخت کنندہ ساڑھے پانچ فیصد ٹیکس ادا کرتا تھا۔
ان کے مطابق بجٹ کے بعد خریدار کے لیے ٹیکس کم ہو کر 1.25 فیصد جبکہ فروخت کنندہ کے لیے 2.75 فیصد رہ گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد کے قریب آ گیا ہے۔
رانا محمد اکرم نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ سے تقریباً 40 سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں اور اس شعبے میں بہتری سے حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں بھی زیادہ آمدن حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک خصوصاً خلیجی ریاستوں کی ترقی میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے اہم کردار ادا کیا ہے اور پاکستان میں بھی اس شعبے کی بحالی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق لاہور میں بعض مقامات پر 7 کروڑ روپے مالیت کے پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے تک بڑھ سکتی ہے جبکہ اسلام آباد میں 10 کروڑ روپے مالیت کے پلاٹ کی قیمت میں 50 لاکھ روپے تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریئل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مستقبل میں بھی سرمایہ کار دوست پالیسیاں جاری رکھتی ہے تو نہ صرف پراپرٹی مارکیٹ مزید مستحکم ہوگی بلکہ تعمیراتی سرگرمیوں اور ملکی معیشت کو بھی اس کے مثبت اثرات حاصل ہوں گے۔




































