بلوچستان واقعہ: منع کرنے کے باوجود مرتضیٰ کوئٹہ جاتے وقت خوش اور مسلسل رابطے میں تھا: والد

بلوچستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کے اہل خانہ نے واقعے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ علی مرتضیٰ کو کوئٹہ جانے سے منع کیا تھا اور وہ کوئٹہ جاتے وقت خوش اور مسلسل رابطے میں تھا، بہو نے بتایا 5 گھنٹے تک مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا، دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی گئی جب کہ تاجر برادری نے جائے وقوعہ کو شہید علی مرتضیٰ کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہید تاجر علی مرتضیٰ کے والد جمیل نے کہا کہ اس سانحے کا کوئی ازالہ ممکن نہیں، جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور آئندہ کسی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی راستہ یا مقام محفوظ نہیں تو اسے بند کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علی مرتضیٰ کو کوئٹہ جانے سے منع کیا تھا تاہم وہ خوشی خوشی روانہ ہوئے تھے اور سفر کے دوران مسلسل اہل خانہ سے رابطے میں تھے۔

والد کے مطابق ان کی بہو نے بتایا کہ واقعے کے بعد تقریباً 5 گھنٹے تک مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا، پہلے گاڑی ملنے کی اطلاع ملی، بعد ازاں بہو اور بچیوں کے ملنے کی خبر موصول ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بہو کے مطابق علی مرتضیٰ کو 5 گولیاں لگی تھیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت سندھ نے تاحال ان کی دادرسی نہیں کی تاہم بلوچستان حکومت مکمل تعاون کر رہی ہے۔ والد جمیل کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔

تاجر رہنما منہاج گلفام نے کہا کہ سانحے کی جگہ کو کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کے نام سے منسوب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا تاجر لاوارث نہیں تھا لیکن حکومت سندھ نے تاحال رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری ملک کو ٹیکس بھی دیتی ہے اور امن و امان کے لیے قربانیاں بھی پیش کرتی ہے، اس لیے حکومت پاکستان، آرمی چیف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت سندھ سے مطالبہ ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

منہاج گلفام نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہید تاجر کے بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ سندھ متاثرہ خاندان کی دادرسی کے لیے فوری اقدامات کریں۔

دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان سکھ دیو نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت غم کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے تحفظات بلوچستان حکومت تک پہنچائے جائیں گے اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

شہید علی مرتضیٰ کے اہل خانہ نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ ان کے چچا نے کہا کہ خاندان کا لاڈلا بیٹا ان سے بچھڑ گیا ہے جب کہ اہل خانہ نے مطالبہ کیا کہ علی مرتضیٰ کا نام ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔

اہل خانہ نے مزید بتایا کہ علی مرتضیٰ ایک ملنسار اور دوسروں کے کام آنے والے نوجوان تھے، جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

Share On Social Media

KARACHI

بجٹ 27-2026: پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کم کرنے کی تیاری

حکومت ملک میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے

Read More

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج داخل ہوگا، مختلف شہروں میں آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

پنجاب بھر میں موسم کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی کا امکان ہے، جہاں آج سے

Read More

TECHNOLOGY

موبائل سمز کی ملکیت ایک سال سے پہلے ختم نہیں ہوسکتی،

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہوا ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان ٹیلی

Read More

گوگل میپس میں نیا دلچسپ فیچر متعارف، پرانے مناظر اب موبائل پر دیکھنا ممکن

اگر آپ اسمارٹ فون پر گوگل میپس استعمال کرتے ہیں تو اب ایک نیا اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.