کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

کراچی میں ہفتے کو رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انتہائی ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ اس تفتیش کے بعد دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار اور افغانستان میں موجود نیٹ ورک کے آپس میں تعلق کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد عثمان نے اپنے بیان میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا ہے۔

عثمان نے بتایا کہ حملے میں ملوث دیگر تین دہشتگرد عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق اس کے قریبی ساتھی تھے، جن میں سے اس کے ساتھ آنے والے دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور عبدالہادی موقع پر ہی مارا جا چکا تھا۔

عثمان نے بتایا کہ وہ سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک سات دن پہلے پاکستان داخل ہوئے تھے۔

عثمان کے مطابق مارا جانے والا عبدالہادی اصل میں باجوڑ کا رہائشی تھا، اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان سب کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپا کر رکھا گیا تھا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا سارا اسلحہ اور بارود عبدالہادی خود وزیرستان سے لے کر آیا تھا۔

یاد رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ کر کے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے بنا وقت ضائع کیے انتہائی پھرتی سے جوابی کارروائی کر کے ان کا یہ ارادہ مٹی میں ملا دیا۔

اس شدید مقابلے میں وطنِ عزیز کے تین رینجرز اہلکار شہید اور چار جوان زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گا اور عزمِ استحکام آپریشن کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف یہ جنگ پوری طاقت سے جاری رہے گی۔

کراچی حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلی جینس آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج کے 29 کارندے مارے گئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس جوابی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں 28 جون کو آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی آپریشن کیا، جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے اور ان کے ٹھکانوں میں چھپایا گیا بھاری اسلحہ و گولہ بارود پوری طرح تباہ کر دیا گیا۔

عطاء تارڑ کے مطابق ان تمام دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

Share On Social Media

KARACHI

زہرہ زاہد کی زی لرننگ انیشی ایٹو نے اورنگی ٹاؤن کی طالبات کی گرینڈ گریجویشن تقریب کی میزبانی کی

خواتین کو بااختیار بنانے اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ

Read More

ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کے لیے خوشخبری؛ اگست میں چھٹیاں ہی چھٹیاں

پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور طلبہ کے لیے اگست کا مہینہ

Read More

TECHNOLOGY

ایپل کے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس آخری مرحلے میں داخل

ایپل نے اپنے آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ریلیز کینڈیڈیٹ ورژن جاری کر دیے

Read More

اینٹی بائیوٹکس کو طاقت دینے والا نیا فارمولا دریافت

دنیا بھر میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم روز بروز زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.