امریکی تاریخ کے سب سے بڑے میڈیکل فراڈ کی اندرونی کہانی

امریکا کے سرکاری صحت کے نظام سے اربوں ڈالر لوٹنے کے الزام میں مطلوب ایک امریکی کاروباری شخصیت ابراہیم خلدون حلمی کو ایک سال سے زائد عرصے تک مفرور رہنے کے بعد ترکیہ سے گرفتار کر کے واپس امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ نے پیر کے روز ابراہیم خلدسون کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس کارروائی کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ہیلتھ کیئر فراڈ تحقیقات میں سے ایک قرار دیا ہے، جہاں ملزم پر بزرگوں اور معذوروں کے لیے مخصوص ہیلتھ انشورنس پروگرام جسے میڈیکیئر کہا جاتا ہے، اس سے تین ارب ستر کروڑ ڈالر کا فراڈ کرنے کا سنگین الزام ہے۔

ریاست فلوریڈا کے شہر ڈیلرے بیچ سے تعلق رکھنے والا یہ بزنس مین بظاہر ایسی کمپنیاں چلاتا تھا جو کاغذات پر طبی سامان فراہم کرنے والے قانونی ادارے دکھائی دیتے تھے۔ ان میں سے ایک کمپنی کا نام سن شائن سینیئر سلوشنز تھا جو معمر مریضوں کے طبی آلات کے نام پر سرکار کو بل بھیجتی تھی۔

لیکن سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک دکھاوا تھا جس کا اصل مقصد ٹیکس دہندگان کا پیسہ چوری کرنا تھا۔

ملزم نے ان کمپنیوں کے ذریعے گھٹنوں اور کلائیوں کی سپورٹ، زخموں کے گدے اور دیگر طبی سامان کے جعلی بل بنا کر میڈیکیئر کو بھیجے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن مریضوں کے نام پر یہ سامان منگوایا گیا، انہوں نے یا تو کبھی اس کی فرمائش ہی نہیں کی تھی، یا انہیں کبھی سامان ملا ہی نہیں، اور کئی مریض تو دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔

کئی سال تک یہ نیٹ ورک اتنی صفائی سے کام کرتا رہا کہ درجنوں کمپنیوں کے اصلی نام اور مریضوں کے جعلی ریکارڈ کی وجہ سے سرکاری اداروں کو شک بھی نہیں ہوا۔

جب مئی 2025میں تفتیش کار ملزم کے قریب پہنچے تو وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گیا۔

ایک سال سے زائد عرصے تک قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بعد بالآخر ترکیہ کی انتظامیہ نے اسے اپنے ملک میں ڈھونڈ نکالا اور گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد ایف بی آئی نے ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے اسے ایک نجی طیارے میں ہتھکڑیاں لگا کر واپس امریکا منتقل کیا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پر اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ترکیہ کی حکومت اور وہاں تعینات امریکی سفیر ٹام بیرک کا شکریہ ادا کیا جن کی سفارتی کوششوں سے یہ گرفتاری ممکن ہوئی۔

یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند دن پہلے ہی ایک اور مفرور ملزم ہربرٹ کمبل کو بھی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کے فراڈ کے الزام میں واپس لایا گیا تھا۔

ان دونوں کیسز کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ امریکی عوام کے پیسوں کی لگ بھگ پانچ ارب ڈالر کی چوری بنتی ہے۔

ابراہیم خلدون حلمی کو اب امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں بھاری جرمانے اور کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ کارروائی ’آپریشن گولڈ رش‘ کا حصہ ہے جو ایسے بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف چلایا جا رہا ہے جو سرکاری پیسوں کو لوٹتے ہیں۔

اس موقع پر کاش پٹیل نے مجرموں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ چرانے والے کسی بھی مجرم کو پکڑ لیا جائے گا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپنے کی کوشش کرے۔“

تاہم اس کیس کے حوالے سے ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے اب تک کے دورِ صدارت میں فراڈ کے جرم میں سزا پانے والے ستر سے زیادہ لوگوں کی سزائیں معاف کی جا چکی ہیں، جن میں فلپ ایسفورمس بھی شامل ہیں جن کا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا فراڈ اس سے پہلے امریکا کا سب سے بڑا انفرادی ہیلتھ کیئر فراڈ مانا جاتا تھا۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت اس نئے اور سب سے بڑے کیس میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

قرآن مجید کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ممنوع قرار، مصری دارالافتا کا فتویٰ

مصری دارالافتا نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے قرآن مجید کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت

Read More

’واٹس ایپ محفوظ نہیں‘، ایلون مسک کی صارفین کو وارننگ

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے  میٹا کی ملکیت والے واٹس

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.