337 بھارتی سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ گئے، شاندار مہمان نوازی پر پاکستان کو خراج تحسین

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے آنے والے 337 سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان پر حاضری دی، مذہبی رسومات ادا کیں اور پاکستان کی مہمان نوازی، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

بھارتی سکھ یاتری گزشتہ 2 روز کے دوران مختلف قافلوں کی صورت میں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے جہاں انہیں متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) کے حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔

ننکانہ صاحب میں واقع گردوارہ جنم استھان، جو بابا گرونانک کی جائے پیدائش ہے، میں یاتریوں نے عقیدت و احترام کے ساتھ مذہبی عبادات اور دعائیں کیں۔ یاتری کل بھوک اکھنڈ پاٹھ صاحب کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو گرو گرنتھ صاحب کی مسلسل تلاوت کے اختتام پر منعقد ہونے والی اہم مذہبی رسم ہے۔

ننکانہ صاحب کے بعد یاتری گردوارہ سچا سودا (فاروق آباد) جائیں گے، جس کے بعد وہ حسن ابدال میں واقع گوردوارہ پنجہ صاحب کا رخ کریں گے جو سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے اور جہاں بابا گرونانک کے دستِ مبارک کا نشان موجود ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز بھی 337 بھارتی سکھ یاتری مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے تھے۔ برسی کی مرکزی تقریب 29 جون کو لاہور کے تاریخی گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقد ہوگی، جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی واقع ہے۔

پاکستان اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، حکام

متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین قمر الزمان نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور سکھ یاتریوں کو محفوظ، پُرامن اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ، بحالی اور بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے تاکہ تمام مذاہب کے ماننے والے آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔

پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ یاتریوں کے قیام، سفر اور دیگر سہولتوں کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار بھی کیا کہ اس بار نوجوان سکھوں کی بڑی تعداد بھی یاترا میں شریک ہے، جو اپنی مذہبی اور ثقافتی وراثت سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق کے مطابق یاتریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی، مفت ٹرانسپورٹ، رہائش، کھانے اور طبی سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 کی گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی قافلے کے ساتھ موجود ہیں۔

بھارتی سکھ رہنماؤں کی پاکستان کے انتظامات اور مذہبی آزادی کی تعریف

دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی اور شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں نے پاکستان حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات اور پرتپاک استقبال کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں قابل تعریف کردار ادا کر رہا ہے اور سکھ یاتریوں کو دی جانے والی سہولتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی مذہبی اقلیتوں اور ان کے مقدس مقامات کا احترام کرتا ہے۔

انہوں نے خصوصی سکیورٹی، مفت سفری سہولت، رہائش، طبی خدمات اور ریسکیو 1122 کی موجودگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے یاتریوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

بھارتی سکھ رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذہبی یاترا کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ مزید عقیدت مند پاکستان میں واقع اپنے مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہو۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی مذہبی اہمیت

مہاراجہ رنجیت سنگھ، جنہیں ’شیرِ پنجاب‘ بھی کہا جاتا ہے، سکھ سلطنت کے بانی تھے اور انہیں مذہبی رواداری، بین المذاہب احترام اور متعدد سکھ عبادت گاہوں کی تعمیر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ لاہور میں واقع ان کی سمادھی ہر سال ہزاروں سکھ یاتریوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔

بھارتی سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت کی طویل روایت کا حصہ ہے۔ دوطرفہ معاہدے کے تحت سکھ یاتریوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی، بابا گرونانک کے جنم دن اور بیساکھی سمیت مختلف مذہبی مواقع پر پاکستان میں واقع اپنے مقدس مقامات کی زیارت کی اجازت دی جاتی ہے۔

حکومتِ پاکستان حالیہ برسوں میں گردوارہ ڈیرہ صاحب، گردوارہ پنجہ صاحب اور گوردوارہ جنم استھان سمیت متعدد تاریخی سکھ عبادت گاہوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے مختلف منصوبے مکمل کر چکی ہے جنہیں عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی سکھ یاتریوں کا یہ دورہ مذہبی رواداری، مشترکہ ثقافتی ورثے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ایک مثبت مثال ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

گُل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ملحقہ رمپا پلازا غیر محفوظ قرار

کراچی کے گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس

Read More

TECHNOLOGY

ایلون مسک کی چاند پر شہر بسانے کی تیاری، کب تک تیار ہوگا؟

ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی شخصیت اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی

Read More

گوگل کا سستا ترین فون ’پکسل 10 اے‘ لانچ کرنے کا اعلان، خصوصیات کیا ہیں؟

گوگل نے اپنا نیا بجٹ فرینڈلی اسمارٹ فون ’پکسل 10 اے‘ متعارف کروا دیا ہے۔

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.