امریکا ایران مذاکرات میں اہم پیش رفت، 60 روز میں حتمی امن معاہدے پر اتفاق

سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران نے 60 روز کے اندر ایک حتمی امن معاہدہ طے کرنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا۔ یہ بات پاکستان اور قطر کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں بتائی گئی۔

اتوار سے شروع ہونے والے مذاکرات پیر تک جاری رہے۔ یہ بات چیت ’ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘(MoU) کے تحت ہوئی، جس پر دونوں ممالک نے گزشتہ جمعرات کو دستخط کیے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے عبوری امن معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جسے فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے پہلے باضابطہ اجلاس میں امریکا، ایران اور ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق ’لیک لوسرن سمٹ‘ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی، جہاں مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی اور مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار بھی تشکیل دیا گیا۔

اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی جو ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔

اس کمیٹی کو مذاکراتی عمل کی مجموعی رہنمائی کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ دونوں ممالک کے چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اسے پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے تاکہ مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اعلامیے کے مطابق اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ کی منظوری دی، جس کے بعد مزید تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان 60 روز کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک خصوصی چینل بھی قائم کیا جائے گا تاکہ غلط فہمیوں اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

دونوں ممالک نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک ’ڈی کنفلکشن سیل ‘ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سیل میں امریکا، ایران، لبنان اور ثالثی کرنے والے ممالک شامل ہوں گے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ برگن اسٹاک میں ہفتے بھر تمام اہم امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ پاکستان اور قطر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھیں اور حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

اعلامیے کے اختتام پر امریکا اور ایران کی سفارتی عمل سے وابستگی اور تنازع کے پُرامن حل کے عزم کو سراہا گیا۔ ساتھ ہی ان دوست اور برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کی حمایت اور معاونت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل

پاکستان اور قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کے فوراً بعد ایرانی وزیر خارجہ نے بھی اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور کہا کہ پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی نے لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ممکن بنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں، محاصرہ ختم کیا جا رہا ہے، ایران کے بعض منجمد اثاثے بحال کیے جا رہے ہیں اور ملک کی تعمیرِ نو و ترقی کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس پیش رفت کا پہلا عملی امتحان لبنان کے لیے قائم کیے جانے والے ’ڈی کنفلکشن سیل‘ کی کامیابی ہوگی۔

جوہری معاہدے سمیت اہم امور زیر بحث

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

عہدیدار کے مطابق فریقین نے جوہری معاہدے کے تمام پہلوؤں پر سنجیدہ اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کا ایک اہم نکتہ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف کے حوالے سے پائی جانے والی ابہام دور کرنے اور اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کے لیے بھی مختلف انتظامی اور حفاظتی طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

اسی طرح جنوبی لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے لیے بھی مختلف انتظامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ ان تمام معاملات پر آئندہ تکنیکی مذاکرات میں مزید پیش رفت کی جائے گی اور موجودہ بات چیت کو ایک مضبوط بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

بند کمرہ مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان قطر اور پاکستان کی ثالثی میں بند کمرہ 4 فریقی مذاکرات اتوار کو شروع ہوئے۔

مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لبنان کی صورتِ حال کے حوالے سے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو فوری طور پر روکنا ہوگا، بصورت دیگر امریکا سخت ردعمل دے گا۔

ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے امکانات پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔

مذاکرات شروع ہونے کے تقریباً 80 منٹ بعد ایرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ فریقین نے داخلی مشاورت کے لیے مختصر وقفہ لیا ہے۔

اس دوران ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تہران ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار ہے۔

’ امن کے لیے لچک ضروری ہے‘

بند کمرہ مذاکرات سے قبل افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات عالمی سطح پر امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں برگن اسٹاک میں یہ اہم ملاقات ممکن ہوئی۔

وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی عمل میں کردار اور کوششوں کو سراہا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس موقع پر کہا کہ ’امن کے لیے دونوں جانب سے لچک اور قربانی درکار ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق یہ ایک تاریخی ملاقات ہے کیونکہ اسلام آباد سے باہر پہلی مرتبہ امریکی اور ایرانی قیادت اس سطح پر آمنے سامنے بیٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات تمام اختلافات فوری طور پر ختم نہیں کریں گے، تاہم پہلی بار دونوں ممالک کی ٹیموں کو ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل کے حل اور مشترکہ مفادات کے تعین کا موقع فراہم کریں گے۔

وینس نے کہا کہ اگر ایران طویل مدت کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے عزائم ترک کر دیتا ہے تو امریکا بھی تہران کے ساتھ تعلقات میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکا اور ایران تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کریں اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت ہو۔

قطری وزیراعظم کا اظہارِ خیال

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور عالمی معیشت کے لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے تمام فریقین کی قیادت اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی ابھی حاصل ہونا باقی ہے اور موجودہ پیش رفت ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر مسئلے کے مستقل حل تک ثالثی کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

پس منظر

اس 4 فریقی اجلاس سے قبل امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے درمیان متعدد دوطرفہ اور سہ فریقی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے۔

برگن اسٹاک میں ہونے والی اس سفارتی سرگرمی کے نتیجے میں طے پانے والا 14 نکاتی معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کر کے منظور کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے اس پر دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، 60 روزہ مذاکراتی ٹائم لائن اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی سمجھوتے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے جوہری عزائم سے متعلق حتمی اتفاقِ رائے کے بعد امریکا خطے کے ممالک کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں معاونت کرے گا۔

یہ معاہدہ 100 دن سے زائد عرصے پر محیط تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی برادری نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟

مصنوعی ذہانت یا اے آئی اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے ایک ایسا سوال

Read More

واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے کاروباری صارفین کے لیے ایک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.