امریکا۔ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

امریکا کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

صورتحال کے پیش نظر بحرین اور کویت میں فضائی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

سینٹکام کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا۔ کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے۔

اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

اے آئی پاور روبوٹس کیا کیا کام کرسکتے ہیں؟ حیرت انگیز رپورٹ

اے آئی پاور روبوٹس زمینی اور فضائی سفر کے طریقوں کو بدل سکتے ہیں، یہ

Read More

واٹس ایپ ویب پر بڑی مشکل آسان، نئے فیچرز متعارف

واٹس ایپ ویب ایک اہم اپ ڈیٹ کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.