آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ، پاکستانی معیشت میں بہتری مگر مشرق وسطیٰ کی جنگ کو خطرہ قرار دے دیا

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قرض پروگرام کی نئی قسط جاری کرنے کے بعد اپنی تفصیلی جائزہ رپورٹ شائع کر دی ہے جس میں ملکی معیشت میں بہتری کے رجحان کو تسلیم کرتے ہوئے بیرونی خطرات سے خبردار بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو بہتر رہی۔

آئی ایم ایف نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک شرح نمو 3.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

فنڈ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی بروقت اور سخت مانیٹری پالیسی نے افراطِ زر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی توقع سے زیادہ بہتری آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذخائر دسمبر کے آخر تک 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ آئندہ مہینوں میں یہ 17.5 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔

تاہم آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو پاکستان کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنازع نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا جس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف درآمدی بل بڑھا بلکہ مہنگائی پر بھی دباؤ آیا جس سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوئی۔ اگرچہ بنیادی منظرنامے میں ان اثرات کو محدود قرار دیا گیا ہے لیکن منفی خطرات بدستور موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 73.8 فیصد تک رہ سکتا ہے۔ مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے مساوی پرائمری سرپلس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جو مالی نظم و ضبط کی بہتری کا اشارہ ہے۔

آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو کاروباری اور پیداواری شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ طویل المدتی معاشی نمو ممکن ہو سکے۔

فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مزید اصلاحات، بینکوں کا مناسب سرمایہ برقرار رکھنا اور زرمبادلہ ذخائر کی بحالی کا تسلسل برقرار رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کا بھی ذکر کیا گیا جس کے تحت پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف نے پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی نگرانی کے نظام کی بہتری اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر رابطے کو کلائمیٹ ریزیلینس کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

مجموعی طور پر آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ مضبوط پالیسیوں کے تسلسل نے پاکستان کی اقتصادی بحالی کو سہارا دیا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے تاہم بدلتی عالمی صورتحال کے پیش نظر محتاط حکمت عملی اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ناگزیر ہوگا۔

Share On Social Media

KARACHI

عوام دوست منڈی میں جانوروں کی تعداد سوالاکھ،معرکہ حق کا جشن بھی منایا

شوبز ستاروں کی پرفارمنس نے مویشی منڈی کی رونقیں بڑھادیں،محفل کو زعفران بنا دیامعروف مذہبی

Read More

کراچی: 50 سے زائد اراکین پر مشتمل اعلیٰ سطح کے چینی تجارتی وفد کا فیڈریشن ہاؤس، کراچی کا دورہ: ایف پی سی سی آئی

چائنہ میں پاکستان کے ایمبیسیڈر، جناب خلیل ہاشمی، چائنہ کے تجارتی وفد کے ہمراہ تشریف

Read More

TECHNOLOGY

ہیومنائیڈ روبوٹس کی حقیقت کیا ہے؟ ماہر نے بڑے دعوؤں پر سوال اٹھا دیا

ٹیکنالوجی صحافی جیمز ونسنٹ نے مختلف ہیومنائیڈ روبوٹس کا عملی جائزہ لینے کے بعد کہا

Read More

پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.