سائبر کرائم کی دنیا میں اغوا و تشدد کا بڑھتا رجحان، ہیکرز اب کمپیوٹر ہی نہیں گھروں میں بھی گھسنے لگے

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم اب صرف ڈیٹا چوری یا ہیکنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ہیکرز کی جانب سے جسمانی تشدد، اغوا اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سیکیورٹی فرم سیمپرس سے وابستہ ماہر ٹِم بیزلی نے انکشاف کیا کہ چند سال قبل ان کے گھر کے دروازے پر ایک مشتبہ پیکٹ چھوڑا گیا جس میں دھمکی آمیز نوٹ موجود تھا۔ اس وقت وہ ایک امریکی سرکاری ادارے پر ہونے والے رینسم ویئر حملے کے بعد ہیکرز سے مذاکرات میں شامل تھے۔ ان کے مطابق یہ پیغام ہیکرز کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق امریکا میں سائبر جرائم کے رپورٹ ہونے والے واقعات سال 2015 میں تقریباً 2 لاکھ 88 ہزار سے بڑھ کر گزشتہ برس 10 لاکھ سے تجاوز کر گئے جبکہ ان جرائم سے ہونے والا مالی نقصان 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اب رینسم ویئر گروپس صرف کمپیوٹر سسٹمز لاک کر کے رقم طلب نہیں کرتے بلکہ متاثرہ افراد اور اداروں کے ملازمین کے گھروں کے پتے، فون نمبرز اور ذاتی معلومات حاصل کر کے انہیں خوفزدہ بھی کرتے ہیں۔

امریکی سیکیورٹی کمپنی ٹینیم کے ماہر زیک وارن کے مطابق ایک اسپتال پر سائبر حملے کے دوران نرسوں اور دیگر ملازمین کو فون کالز موصول ہوئیں جن میں ہیکرز نے ان کے گھروں کے پتے اور ذاتی معلومات بتا کر دھمکایا کہ وہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ہیکرز صنعتی مشینری، روبوٹس اور کنویئر بیلٹس کا کنٹرول حاصل کر کے انہیں بند یا چالو کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے جانی نقصان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان میں سے کئی سائبر جرائم پیشہ گروہ روس، چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک سے منسلک سمجھے جاتے ہیں، تاہم زیادہ تر گروہ مالی فائدے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق بعض ہیکرز کی عمریں صرف 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی سائبر مجرم خود تشدد نہیں کرتے بلکہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دوسروں کو پیسے دے کر حملے، نگرانی یا دھمکیاں دلواتے ہیں۔

کرپٹو کرنسی سے منسلک جرائم میں بھی جسمانی تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ برس فرانس میں پولیس نے ایک کرپٹو سرمایہ کار کے والد کو اغوا کے بعد بازیاب کرایا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اغوا کاروں نے تاوان کے دباؤ کے لیے ان کی انگلی بھی کاٹ دی تھی۔

یورپی قانون نافذ کرنے والے ادارے یوروپول کے مطابق ’وائلنس ایز اے سروس‘ یعنی پیسے کے بدلے تشدد کی خدمات فراہم کرنے والے نیٹ ورکس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہر ایڈم مائرز کے مطابق بعض افراد سوشل میڈیا پر اپنی دولت خاص طور پر کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والی کمائی کی تشہیر کر کے خود کو مجرموں کی توجہ کا مرکز بنا لیتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرہ ادارے اور افراد خوف کے باعث ہیکرز کو ادائیگیاں کرتے رہے تو ایسے جرائم اور دھمکیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ٹِم بیزلی کے بقول جب لوگوں کو اپنے خاندان کی سلامتی کا خوف ہو تو وہ رقم دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہی چیز مجرموں کو مزید طاقت دیتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

کراچی پورٹ کا ایک اور اعزاز، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہزار الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

کراچی پورٹ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں گاڑیوں کی ترسیل کرنے والا

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.