مکھی کا دماغ خودکار گاڑیوں میں استعمال ہوسکتا ہے، برطانوی تحقیق نے نیا راستہ دکھا دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے کیڑے مکوڑوں خصوصاً مکھی کے دماغ اور آنکھوں کی تیز رفتار کام کرنے کی صلاحیت مستقبل کی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے نظاموں میں بڑا انقلاب لا سکتی ہے اور یہ خصوصاً خودکار گاڑیوں جیسے شعبوں میں بھی اپنا کمال دکھا سکتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ کیڑے ایک ٹربو بوسٹ جیسا نظام استعمال کرتے ہیں جسے ہائی فریکوئنسی جمپنگ کہا جاتا ہے۔ یہ نظام انہیں انتہائی تیز اور درست ردعمل دینے کے قابل بناتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ کیڑے دنیا کو صرف غیر فعال انداز میں نہیں دیکھتے بلکہ اپنے جسم کو بھی نظر آنے والی چیزوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے حرکت دیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں کی تیز حرکات جنہیں سیکیڈز کہا جاتا ہے دماغ کو زیادہ واضح اور تیز معلومات فراہم کرتی ہیں۔

جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی مذکورہ اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ جب کیڑا تیزی سے موڑ لیتا ہے تو اس کا دماغ ایک ’ہائی گیئر‘ میں چلا جاتا ہے جس سے وہ تیزی سے بدلتی معلومات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے۔

پروفیسر مِکو جوسولا کے مطابق یہ دریافت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دماغ معلومات کو پراسیس کرنے کے بارے میں ایک بالکل نیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دکھایا ہے کہ انتہائی چھوٹے دماغ بھی انتہائی پیچیدہ مسائل کو غیر معمولی رفتار سے حل کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کے اے آئی نظام، خاص طور پر روبوٹس، خودکار گاڑیوں اور ریئل ٹائم فیصلہ سازی کے نظام، اس اصول سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جہاں حرکت، بصارت اور دماغی ردعمل ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر یُونی تاکالو نے کہا کہ یہ نتائج روایتی نیورل ماڈلز کو چیلنج کرتے ہیں کیونکہ اب تک سمجھا جاتا تھا کہ معلومات دماغ میں طے شدہ راستوں سے گزرتی ہیں جبکہ نئی تحقیق کے مطابق بصارت اور حرکت مل کر ایک مشترکہ نظام بناتے ہیں۔

گاڑیوں میں مکھی کیسے معاون ثابت ہوسکتی ہے؟

محققین کے مطابق چھوٹی مکھی کا دماغ بہت کم وقت میں بہت تیزی سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کیڑا صرف دیکھنے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے جسم کی حرکت اور آنکیں تیز چھپکنے کے ذریعے ماحول سے مسلسل نئی معلومات حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس طرح اس کا دماغ بغیر زیادہ وقت ضائع کیے فوری طور پر ردعمل دے دیتا ہے جیسے تیزی سے موڑ لینا یا خطرے سے بچنا۔

اسی اصول کو خودکار گاڑیوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر گاڑیاں بھی حرکت اور سینسرز کے ذریعے اسی طرح مسلسل معلومات حاصل کریں اور فوری فیصلے کریں تو وہ زیادہ تیز، محفوظ اور توانائی بچانے والی بن سکتی ہیں۔ یعنی مکھی کے دماغ کا یہ قدرتی تیز ردعمل نظام مستقبل میں روبوٹس اور خودکار گاڑیوں کے فیصلے کرنے کے طریقے کو بہتر بنا سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

کراچی میں ہفتے کو رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے میں گرفتار ہونے والے افغان

Read More

وزیر داخلہ، آئی جی کی کراچی میں یوم عاشور کے پُرامن جلوس اور مجالس کے انعقاد پر جوانوں کو شاباش

وزیرداخلہ، آئی جی اور کراچی پولیس چیف نے یوم عاشور پر کراچی سمیت صوبے بھر

Read More

TECHNOLOGY

موبائل چارج کرنے سے بجلی کا بل کتنا بڑھ جاتا ہے؟

آج کے دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

Read More

گوگل کا اب تک کا سب سے دلچسپ فیچر، صارفین سیلفی سے لاگ ان ہوسکیں گے

گوگل نے اپنے صارفین کے لیے چہرے کی شناخت پر مبنی ایک نئی تصدیقی سہولت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.