امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب؟ ٹرمپ کا مذاکرات میں پیشرفت کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بہت اچھے رہے ہیں اور جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف تھا کہ معاہدہ قریب ہونے کی اطلاعات درست نہیں اور تہران نے ابھی تک پاکستانی ثالثوں کو اپنے باضابطہ جواب سے آگاہ نہیں کیا

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران بے چینی سے معاہدے کا خواہاں ہے اور معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔‘

بعد ازاں امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اگلے ہفتے چین کے دورے سے قبل کسی معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ ایران پر شدید بمباری شروع کر دے گا۔

’میرے خیال میں اس تنازع کے خاتمے کے امکانات بہت روشن ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں دوبارہ بھرپور بمباری کرنا پڑے گی۔‘

امریکی میڈیا کے مطابق اسی روز اپنے حامیوں سے ٹیلیفونک گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ سب بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

14 نکاتی مفاہمتی یادداشت

ٹرمپ اس سے قبل بھی بارہا ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کا ذکر کر چکے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ کر سکے، تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 5ویں حصے کی تیل اور گیس سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔

واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت پر متفق ہونے کے قریب ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک 14 نکاتی دستاویز پر بھی پیش رفت کر رہے ہیں، اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کم از کم 12 برس تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر جاری کیے جائیں گے، جبکہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں عائد رکاوٹیں ختم کرکے دستخط کے 30 روز کے اندر اہم بحری گزرگاہ کھول دیں گے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ مفاہمتی یادداشت گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے سے کس حد تک مختلف ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے ابھی تک امریکی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب نہیں دیا اور متبادل مسودوں کا جائزہ جاری ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ امور و قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے امریکی متن کو حقیقت سے زیادہ امریکی خواہشات کی فہرست قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکا اس جنگ سے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکے گا جو وہ براہ راست مذاکرات سے حاصل نہ کر سکا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی تجویز میں بعض ناقابل قبول نکات شامل ہیں، تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

اوپن اے آئی نے اسٹار گیٹ کمیونٹی منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی

Read More

موبائل فون مرمت کے لیے دینے سے پہلے یہ احتیاط یقینی بنائیں

موبائل فون دکان یا سروس سینٹر پرمرمت کے لیے دیتے وقت آپ کی پرائیویسی اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.