روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟

ایک ٹیکنالوجی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات کے لیے سیاستدان ابھی تک تیار نہیں ہیں اور اگر کمپنیوں سے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر فیس یا ٹیکس لیا جائے تو ملازمتوں میں کمی کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ویلز سے تعلق رکھنے والے ٹیک انٹرپرینیور چارلس ریڈکلف کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز اے آئی کے اثرات کی رفتار اور وسعت کو صحیح طور پر سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی نے ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو دفتری کام، جیسے فارم بھرنا اور ڈیٹا انٹری چند سیکنڈز میں مکمل کر سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اے آئی کے استعمال پر ایک طرح کا ٹیکس یا روبوٹس کے لیے کم از کم اجرت مقرر کی جائے تاکہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کر سکے۔

ان کے مطابق جب بھی کمپنی اے آئی سے کام کرواتی ہے تو درحقیقت ایک انسانی ملازمت ختم ہو کر ڈیٹا سینٹر میں منتقل ہو جاتی ہے۔

ریڈکلف کے مطابق بعض کام جو انسانوں کو مکمل کرنے میں ہفتوں لگتے ہیں وہی کام اے آئی صرف چند سیکنڈز میں کر لیتا ہے جس کے باعث خاص طور پر دفتری ملازمین کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں کچھ افراد طویل عرصے تک بے روزگار بھی ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور معیشت میں تبدیلی کے ساتھ فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت ایک نیا ادارہ قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جو اے آئی کے معاشی اثرات کا جائزہ لے گا۔

ادھر بعض صنعتکاروں کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایک برطانوی کمپنی کے سربراہ اولیور کونگر کے مطابق اے آئی اور آٹومیشن سے پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ٹیکنالوجی ملازمین کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کے کردار کو بدل رہی ہے۔ ان کے مطابق ملازمین کو نئی مہارتیں سکھا کر مختلف شعبوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا اے آئی پر فوری طور پر ٹیکس لگایا جائے یا پہلے اس کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ تاہم اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں معیشت اور روزگار کے ڈھانچے کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔

روبوٹس کی اجرت سے مراد کیا ہے؟

روبوٹس کے لیے کم از کم اجرت سے مراد یہ نہیں کہ روبوٹس یا مصنوعی ذہانت کو واقعی تنخواہ دی جائے گی۔ دراصل اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ جو کمپنیاں اے آئی یا آٹومیشن استعمال کرتی ہیں ان پر ایک مخصوص ٹیکس یا فیس عائد کی جائے بالکل اسی طرح جیسے وہ انسانی ملازمین کو اجرت دیتی ہیں۔

اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ اگر کمپنیاں بڑی تعداد میں انسانی ملازمین کی جگہ اے آئی استعمال کریں تو وہ حکومت کو اس کے بدلے کچھ رقم ادا کریں جو پھر حکومت عوامی فلاح، بے روزگار افراد کی مدد اور نئی مہارتیں سکھانے جیسے پروگرامز پر خرچ کر سکتی ہے۔

یوں اس تجویز کا اصل ہدف روبوٹس کو تنخواہ دینا نہیں بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اثرات کو متوازن کرنا اور انسانی روزگار کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد میں دو گروپ لڑ پڑے، فائرنگ سے رہنماؤں سمیت درجنوں افراد زخمی

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز پر دو گروپوں کے درمیان تصادم

Read More

دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد:  ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا

Read More

TECHNOLOGY

چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے

چین کے مشرقی شہر ہینگژو میں قائم ایک جدید قومی تربیتی مرکز میں روبوٹس کو

Read More

اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.