ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کو مسترد کر دیا

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی جانب سے کلیدی پالیسی ریٹ میں 1 فیصد اضافے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط وقت پر کیا گیا ہے؛ کیونکہ، ملکی معیشت استحکام کے مرحلے کے بعد اب ترقی کی جانب گامزن ہونے کے مرحلے پر ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اعلیٰ تجارتی ادارے نے پہلے ہی واضح طور پر خبردار کر دیا تھا کہ ملک میں مانیٹری پالیسی کو مسلسل سخت رکھنے سے جدوجہد کرتی ہوئی صنعتوں اور برآمدی شعبوں کو کاری ضرب لگے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اب مزید سکڑتی ہوئی یا رجعتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ شرح سود کا بلند ہونا حکومت کے معاشی بحالی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کی فراہمی کے اہداف سے براہِ راست متصادم ہے اور اس سے پاکستانی مصنوعات علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مسابقت کھو دیں گی۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ بزنس کمیونٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ہم نے بارہا اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو اعداد و شمار فراہم کیے ہیں کہ ہماری صنعتیں قرض لینے کی اتنی بھاری لاگت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی؛ جبکہ ہمارا مقابلہ ان علاقائی معیشتوں سے ہے جہاں شرح سود کم سے بہت کم ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے بجائے—جو کہ بنیادی طور پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کی نااہلی کی وجہ سے ہے—یہ مانیٹری پالیسی صرف کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کرے گی؛ نجی شعبے کے قرضوں کو روکے گی اور ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتوں کی تباہی) کے خطرات کو بڑھائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صنعت و تجارت کا گلا گھونٹ کر معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔

سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی، ثاقب فیاض مگوں، نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) پر اس فیصلے کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ ایس ایم ایز کے لیے سستی مالیات تک رسائی کے دروازے بند کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بھاری ٹیرف اور تعمیل کے اخراجات کے ساتھ اس مانیٹری سختی سے کئی مینوفیکچررز ڈیفالٹ یا مکمل بندش کی طرف چلے جائیں گے۔

نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ ایف پی سی سی آئی عبدالمہیمن خان، نے تاجروں اور صنعتکاروں کے اضطراب کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی چیمبرز پہلے ہی شدید مشکلات رپورٹ کر رہے ہیں۔ فیکٹریاں اپنی استعداد سے کم پر کام کر رہی ہیں اور اب وہ مزدوروں کی چھانٹی پر مجبور ہوں گی۔ شرح سود میں اضافہ مستقبل کی توسیع میں کمی اور نئے آرڈرز کی منسوخی کا سبب بنے گا۔

ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام مہنگائی کرنے کے اس تباہ کن اور روایتی طریقہ کار پر نظرثانی کریں اور اس کے بجائے ترقی پسند مانیٹری فریم ورک اپنائیں؛ جو مقامی صنعت کو سزا دینے کے بجائے سہولت فراہم کرے۔

ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم، وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے مانیٹری پالیسی کے اس رخ پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک جامع معاشی فریم ورک ترتیب دیا جائے؛ جس میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور برآمدی و مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے توانائی اور قرضوں کی لاگت میں کمی کو ترجیح دی جائے

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

کراچی پورٹ کا ایک اور اعزاز، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہزار الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

کراچی پورٹ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں گاڑیوں کی ترسیل کرنے والا

Read More

TECHNOLOGY

انسانی اشارے سمجھنے والا انوکھا فون تیار، استعمال کا طریقہ بھی بدل جائے گا

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں

Read More

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.