بغیر بجلی چلنے والا نیا کولنگ سسٹم متعارف، ایئر کنڈیشنرز کا متبادل قرار

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے ایک نیا کولنگ سسٹم تیار کیا ہے جو بجلی کے بغیر کام کرتا ہے اور روایتی ایئر کنڈیشننگ نظام پر انحصار کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بجلی کی محدود دستیابی کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔

محققین کے مطابق دنیا بھر میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بڑی تعداد میں آبادی کو اب بھی قابلِ اعتماد بجلی تک رسائی حاصل نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 70 کروڑ سے زیادہ افراد بجلی سے محروم ہیں، جس کے باعث کم لاگت اور پائیدار کولنگ سسٹمز کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

اس نظام کو (Nescod (No Electricity and Sustainable Cooling on Demand کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کمپریسر یا الیکٹرک موٹرز کے بجائے امونیم نائٹریٹ پر انحصار کرتا ہے، جو عام طور پر کھادوں میں استعمال ہونے والا ایک مرکب ہے۔

ماہرین کے مطابق جب امونیم نائٹریٹ پانی میں حل ہوتا ہے تو یہ اردگرد سے حرارت جذب کرتا ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں اینڈوتھرمک ڈیزولوشن کہا جاتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔

تجربات میں مؤثر نتائج

محققین کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹس میں دیکھا گیا کہ امونیم نائٹریٹ اور پانی کے امتزاج سے درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر صرف 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا، اور یہ عمل 20 منٹ میں مکمل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نظام دیگر نمکیات جیسے امونیم کلورائیڈ کے مقابلے میں قریباً 4 گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ یہ مادہ کم قیمت، آسانی سے دستیاب اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

شمسی توانائی سے ری جنریشن

اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ استعمال کے بعد اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کی جاتی ہے، جس کے بعد امونیم نائٹریٹ دوبارہ کرسٹل شکل اختیار کر لیتا ہے اور دوبارہ استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔

اس عمل کے دوران حاصل ہونے والا پانی بھی شمسی کشیدگی کے ذریعے دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جس سے ضیاع کم ہوتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں ایئر کنڈیشننگ نظام عالمی بجلی کے تقریباً 10 فیصد استعمال کا باعث ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں شدید گرمی اور کولنگ کی طلب زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے تو یہ ان علاقوں کے لیے ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے جہاں بجلی اور پانی دونوں کے محدود وسائل ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

پاشا کے سینیئر نائب چیئرمین کو قائم مقام چیئرمین مقرر کر دیا گیا: پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA)

پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد مصطفی سید کے خلاف سنٹرل ایگزیکٹو

Read More

بیوٹی سیکٹر میں ایستھیٹک سیفٹی کے لیے فوری ریگولیٹری اقدامات ناگزیر – زہرہ زاہد

ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ویمن اسٹائل، بیوٹی اینڈ اسکن

Read More

TECHNOLOGY

بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت سے دنیا کو لاحق بڑے خطرے سے آگاہ کردیا

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بد نیتی پر مبنی

Read More

چین کے خلائی اسٹیشن پر تعیناتی: دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخل

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کی نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے،

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.