پاس ورڈ کو خیرباد کہیں اور پاس کیز اپنائیں، اب یہ کیا معاملہ ہے؟

برطانیہ کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں ممکن ہو وہاں روایتی پاس ورڈز کے بجائے ’پاس کیز‘ کا استعمال شروع کیا جائے تاکہ آن لائن اکاؤنٹس کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔

نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے مطابق پاس ورڈز کئی دہائیوں سے اکاؤنٹس تک رسائی کا بنیادی ذریعہ رہے ہیں تاہم اب سیکیورٹی کے روایتی طریقوں میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے پاس کیز کو زیادہ محفوظ متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سادہ پاس ورڈز جیسے ’123456‘ یا عام الفاظ اور نام استعمال کرنے سے ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف ویب سائٹس پر استعمال کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے پاس ورڈ مینیجرز اور ملٹی فیکٹر تصدیق جیسے طریقے سامنے آئے لیکن اب پاس کیز کو اس سے بھی بہتر حل سمجھا جا رہا ہے۔

پاس کیز کیا ہیں؟

پاس کیز دراصل ایک جدید ڈیجیٹل تصدیقی نظام ہے جو پاس ورڈ کی طرح کام کرتا ہے مگر اس میں صارف کو کوئی کوڈ یا پیچیدہ الفاظ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ ہر اکاؤنٹ کے لیے ایک منفرد ڈیجیٹل چابی بناتا ہے جو صارف کے اپنے ڈیوائس سے منسلک ہوتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کرپٹوگرافی کے ذریعے کام کرتی ہے جہاں ایک کلید صارف کے ڈیوائس پر رہتی ہے اور دوسری متعلقہ سروس کے پاس ہوتی ہے۔

لاگ اِن کے وقت صارف فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا پن کوڈ کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کرتا ہے اور صرف تصدیق کا نتیجہ شیئر ہوتا ہے نہ کہ حساس معلومات۔

ایپل اور گوگل سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اپنے پلیٹ فارمز پر پاس کیز کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔

کیا یہ مکمل حل ہے؟

ماہرین کے مطابق پاس کیز فشنگ حملوں سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ انہیں نہ تو آسانی سے چوری کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریموٹ حملہ آور ان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مکمل حل نہیں اور اگر صارف اپنے ڈیوائس تک رسائی کھو دے تو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاس ورڈز سے پاس کیز کی جانب منتقلی آن لائن سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور آنے والے وقت میں یہ ٹیکنالوجی مزید عام ہونے کی توقع ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کے لیے خوشخبری؛ اگست میں چھٹیاں ہی چھٹیاں

پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور طلبہ کے لیے اگست کا مہینہ

Read More

مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی

Read More

TECHNOLOGY

مصنوعی ذہانت نے کتابوں کے پبلشرز میں افراتفری مچا دی، مصنفین شک کے گھیرے میں

اے آئی کے استعمال نے کتابوں کی اشاعت کی صنعت کے سامنے ایک نیا اور

Read More

میٹا نے 7 لاکھ فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹ وجہ بتائے بغیر ڈیلیٹ کردیے

سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا نے آسٹریلیا میں 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.