پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں شروع ہوسکتے ہیں؛ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورۂ پاکستان مؤخر کرکے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا تاہم ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ڈیڑھ سے تین دنوں میں مذاکرات شروع ہونے کے امکان کی تصدیق کی ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں مزید امن مذاکرات کا امکان پیدا ہوگیا ہے، صدر ٹرمپ نے اس ممکنہ پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران کی قیادت کی جانب سے متفقہ تجویز آنے تک جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو ناکہ بندی جاری رکھنے اور مکمل تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور پاکستانی ذرائع کے مطابق جنگ بندی سخت بیانات کے باوجود برقرار ہے، جو دونوں جانب مثبت ارادے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کسی قسم کی عسکری کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوا۔

پاکستانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات طویل انتظار کے بعد امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد تو نہ آئے لیکن رات گئے ایک خبر جاری کی گئی جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں غیر معیّنہ توسیع کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایراوانی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اُٹھا لے تو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شمولیت کی واحد رکاوٹ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ہے۔ اور ایران اس کے خاتمے کے بعد اِسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آسکتا ہے۔

لیکن امریکی صدر کی جانب سے ایران کو ڈیل قبول نہ کرنے کے عوض سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو امریکی صدر کی جانب سے دباؤ کی سفارت کاری نظر آتی ہے لیکن ایرانی قیادت کے لیے ایسی دھمکیاں قبول کرنا اندرونِ ملک اپنی سیاسی پوزیشن خراب کرنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا دارومدار امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے مثال کے طور پر اگر وہ بحری ناکہ بندی ختم کر کے ایرانی جہازوں کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ مذاکرات کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

عوام دوست منڈی ناردرن بائی پاس میں جانوروں کی آمد

کشمور ،گھوٹکی، نوشہروفیروز، اور رحیم یار خان سے مزید جانور مویشی منڈی پہنچ گئے مختلف

Read More

حکومت کا پیک آورز کے دوران 2 کمپنیوں کیلیے بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ

وزارت توانائی نے بجلی کے زیادہ طلب والے وقت میں جیسکو اور کے الیکٹرک کیلیے روزانہ

Read More

TECHNOLOGY

پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟

پاکستان میں موبائل فونز پر عائد ’پی ٹی اے ٹیکس‘ جو بنیادی طور پر فیڈرل

Read More

اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟

اے آئی کمپنی اینتھروپک نے کچھ صارفین سے اپنے چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کے مخصوص فیچرز

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.