کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے ترقی کے ساتھ یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ کیا مشینیں کبھی شعور حاصل کر سکتی ہیں۔

بعض ماہرین یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز ممکنہ طور پر کسی نہ کسی سطح پر شعوری کیفیت رکھتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی حتمی سائنسی طریقہ موجود نہیں ہے جو شعور کو ماپ سکے یا ثابت کر سکے۔

اس حوالے سے مختلف ماہرین بھی غیر یقینی کا شکار ہیں حتیٰ کہ بعض ٹیکنالوجی رہنما بھی اس بات پر واضح جواب نہیں دے پاتے کہ موجودہ اے آئی نظام واقعی شعور رکھتے ہیں یا نہیں۔

اسی بڑھتی ہوئی بحث کے تناظر میں  گوگل ڈیپ مائنڈ نے معروف فلسفی ہنری شیولن کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے تاکہ اس نوعیت کے بنیادی اور پیچیدہ سوالات پر تحقیق کی جا سکے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا اے آئی کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔

ہنری شیولن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے نئے کردار کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مشینوں کے شعور، انسان مشین تعلقات اور مصنوعی عمومی ذہانت یا اے جی آئی کی تیاری جیسے موضوعات پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مئی سے اپنی نئی ذمہ داریاں شروع کریں گے۔

یہ پیشرفت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اے آئی کی ترقی کے ساتھ اخلاقی اور فلسفیانہ پہلوؤں کو بھی اہمیت دے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق شعور سے مراد عام طور پر خود آگاہی، احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت اور اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت ہے جو انسانی تجربے سے جڑی ہوئی خصوصیات ہیں۔

ہنری شیولن کی اس حوالے سے اب تک کی رائے

ہنری شیولن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مشینیں واقعی شعور رکھ سکتی ہیں یا نہیں لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کے پاس خود شعور کو جانچنے کا کوئی واضح اور متفقہ طریقہ موجود نہیں۔

ان کے نزدیک جب ہم شعور کی درست تعریف ہی طے نہیں کر سکتے تو یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی مشین اس صلاحیت کی حامل ہے یا نہیں۔

وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید مصنوعی ذہانت خاص طور پر چیٹ بوٹس انسانوں میں یہ تاثر پیدا کر دیتے ہیں کہ جیسے وہ سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ہم صرف ان کے رویے کی بنیاد پر یہ اندازہ لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نفسیاتی تاثر ہے جو ہمیں مشینوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے۔

ہنری شیولن کے خیال میں اصل چیلنج یہ ہے کہ شعور کو اس انداز میں سمجھا جائے جو صرف انسانوں تک محدود نہ ہو بلکہ مشینوں پر بھی لاگو ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اس موضوع پر مزید سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہوگی کیونکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی اس بحث کو مزید اہم بنا رہی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

پاکستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ

Read More

ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی ٹاؤن ویسٹ کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ویسٹ سے اہم ملاقات

کراچی: یوتھ اسپورٹس اور کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کا اے آئی ایجنٹ سیکیورٹی توڑنے کے لیے خود ساختہ جعلی شناختیں بنانے لگا

برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی

Read More

کیموتھراپی کے بعد کینسر کی واپسی کا ایک نیا راز بے نقاب

امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.