عالمی سیاست میں بعض اوقات کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی بظاہر اہمیت نظر نہیں آتی لیکن ان کے نتائج عالمی سیاسی منظرنامے پرکوئی بھی ریاست جب کسی عالمی مسئلے میں فریق بنتی ہے یا کسی بھی مسئلے سے اس ریاست کے مفادات پر ضرب لگتی ہے تو اس کا ردعمل انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔ عالمی مسائل میں واضح موقف، بہترین سفارتی حکمت عملی، علاقائی توازن میں اپنا کردار، معاشی مفادات کا تحفظ اور مستقبل کی سمت کا درست تعین ایسے عوامل ہیں جن پر توجہ مرکوز رکھنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے بحرین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد اور اس قرارداد پر ووٹنگ کے عمل سے پاکستان کی غیر حاضری کو ہمارے کچھ اپنے ہی غیر ذمے دارانہ سفارتکاری سے تعبیر کر رہے ہیں اور اس کو خلیجی ممالک اور بالخصوص متحدہ عرب امارات سے دوری گردان رہے ہیں۔ حالانکہ یہ معروضی حالات میں بہترین سفارت کاری اور حکمت عملی کا مظہر تھا۔
سلامتی کونسل میں جہاں مستقل رکنیت رکھنے والے چین، روس، امریکا، برطانیہ اور فرانس کو عالمی سیاست میں مرکزیت حاصل ہے۔ اور سلامتی کونسل میں ہونے والا ہر فیصلہ پوری دنیا پر بطور مجموعی اثرات رکھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بحرین کی قرارداد پر روس اور چین کا اپنا ویٹو اختیار استعمال کرنا اور پاکستان کا کولمبیا کے ساتھ ووٹنگ سے غیر حاضر رہنا ایسا عمل ہے جس نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب کرلی۔ انتہائی دور رس ہوتے ہیں۔



































