مشرقِ وسطیٰ میں 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک گر گئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کے بعد سرمایہ کاروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس پیشرفت سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل بحال ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جہاں سے دنیا کی قریباً 20 فیصد توانائی گزرتی ہے۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت قریباً 15 فیصد کمی کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ برینٹ خام تیل بھی 13 فیصد کمی کے بعد 95 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ S&P 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ یورپی مارکیٹس 5 فیصد تک اوپر چلی گئیں۔ ایشیا میں Nikkei 225 قریباً 5 فیصد اور KOSPI 6 فیصد تک بڑھ گیا، جس کے باعث عارضی طور پر ٹریڈنگ بھی روکنا پڑی۔
جنگ کے باعث گزشتہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، مہنگائی کے خدشات اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ بہتری عارضی بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں، کیونکہ سرمایہ کار ابھی بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی بانڈز کی شرح منافع میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں خطرات کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنگ کے اثرات مکمل طور پر ختم ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔




































