آسان اقساط پر اسمارٹ فونز کی فراہمی کے منصوبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام متعلقہ فریقین اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ قسطوں پر موبائل فون دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک بنایا جائے، جبکہ وزارت آئی ٹی نے اس حوالے سے پالیسی ڈائریکٹو بھی تیار کرلیا ہے۔
یاد رہے کہ اسمارٹ فون فار آل منصوبہ نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز نے مالی خطرات اور قانونی مسائل پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ ان خدشات کے پیش نظر یہ طے پایا کہ اگر کوئی صارف قسطوں کی ادائیگی میں ناکام رہتا ہے تو اس کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل اور ٹیلی کام سہولیات معطل کر دی جائیں گی، جبکہ پی ٹی اے ایسے صارف کا موبائل فون بھی بلاک کر سکے گا۔
تاہم حکومت نے یہ تجویز مسترد کردی کہ نادہندہ افراد کی تمام مالیاتی خدمات بند کر دی جائیں، کیونکہ یہ اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس ہے۔
ایک چینی ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ اگرچہ کچھ تجاویز منظور نہیں ہوئیں، اس کے باوجود آپریٹرز اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ نادہندہ صارف کسی دوسرے نیٹ ورک کی سروس بھی حاصل نہیں کر سکے گا، اور پالیسی ڈائریکٹو جاری ہونے کے بعد تمام کمپنیوں پر اس پر عمل کرنا لازم ہوگا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چینی ٹیلی کام اداروں نے موبائل فون بنانے والی کمپنیوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ اسمارٹ فونز کی دستیابی کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
توقع ہے کہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے پالیسی جلد جاری ہونے کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے گا، جس سے صارفین کو آسان اقساط پر اسمارٹ فون حاصل کرنے کی سہولت ملے گی۔




































