تیل کا عالمی بحران: ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرنے والا نیا چیلنج

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا عالمی تیل بحران اب ایک بڑے معاشی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو صرف ایندھن تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کو متاثر کر رہا ہے۔ ’سی این این‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس بحران کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں بلکہ پلاسٹک، ربڑ اور دیگر پیٹروکیمیکل مواد کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے، جو روزمرہ اشیا کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایشیا، جو عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز ہے، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان میں پلاسٹک مصنوعات کی کمی، قیمتوں میں اضافہ اور بعض شعبوں میں پیداوار میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

سی این این کے مطابق اس بحران کی ایک بڑی وجہ ’نیفتھا‘ کی قلت ہے، جو پیٹرولیم سے حاصل ہونے والا ایک اہم جزو ہے اور مصنوعی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

یہ صورتحال صنعتی شعبے کے ساتھ ساتھ طبی اور زرعی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ جاپان میں طبی آلات کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ملائیشیا میں طبی دستانوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح کھاد اور دیگر زرعی اجزا کی قیمتوں میں اضافہ خوراک کی مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا بھی ماننا ہے کہ یہ بحران عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات عالمی تجارت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

اگرچہ مختلف ممالک اپنے تیل کے ذخائر استعمال کر کے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اصل چیلنج پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قلت ہے، جس کا فوری متبادل دستیاب نہیں۔ اسی وجہ سے بعض کمپنیاں متبادل مواد استعمال کرنے پر غور کر رہی ہیں، مگر یہ عمل مہنگا اور وقت طلب ہے۔

مجموعی طور پر سی این این کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحران محض تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو دنیا کو طویل عرصے تک مہنگائی، صنعتی سست روی اور اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے تین ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

Read More

پاشا کے سینیئر نائب چیئرمین کو قائم مقام چیئرمین مقرر کر دیا گیا: پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA)

پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد مصطفی سید کے خلاف سنٹرل ایگزیکٹو

Read More

TECHNOLOGY

آئی فون 18 پرو سیریز کے لانچ ہونے میں چند دن باقی، قیمت کیا ہوگی؟

ایپل کے نئے آئی فون کا انتظار کرنے والے صارفین کے لیے بری خبر سامنے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.