چمکدار دانت اب بغیر کسی نقصان کے: سائنس دانوں نے انقلابی ٹوتھ پاؤڈر تیار کرلیا

دانتوں کی صفائی اور سفیدی کے لیے لوگ برسوں سے مختلف ٹوتھ پیسٹ اور کیمیکل استعمال کرتے آرہے ہیں، لیکن اب سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا طریقہ پیش کیا ہے جو نہ صرف دانت سفید کرتا ہے بلکہ انہیں کمزور ہونے سے بھی بچاتا ہے۔ اس نئی تحقیق میں ایک خاص قسم کا پاؤڈر تیار کیا گیا ہے جو عام برش نہیں بلکہ الیکٹرک ٹوتھ برش کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ دانت اپنی چمک کھو دیتے ہیں، خاص طور پر چائے، کافی اور مختلف غذاؤں کے استعمال سے ان پر داغ پڑ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے لوگ وائٹننگ پراڈکٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ مگر ان میں موجود کیمیکل اکثر دانتوں کی اوپری تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے حساسیت اور کیویٹی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ کیمیکل ”ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز“ یا آر او ایس پیدا کرتے ہیں جو داغ تو ختم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی دانتوں کی حفاظتی تہہ اینامل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی افراد کو حساسیت اور کمزوری جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

نئی تحقیق، جس کی قیادت سائنسدان من ژنگ اور ان کی ٹیم نے کی، اس روایتی طریقے سے مختلف ہے۔ ماہرین نے ایسا پاؤڈر بنایا ہے جو صرف اسی وقت کام کرتا ہے جب الیکٹرک ٹوتھ برش استعمال کیا جائے۔ برش کی کمپن اس پاؤڈر کو متحرک کرتی ہے، جس کے بعد یہ دانتوں سے داغ ہٹانے کا عمل شروع کرتا ہے۔ اس طرح غیر ضروری کیمیکل اثرات کم ہو جاتے ہیں اور دانت محفوظ رہتے ہیں۔

تحقیق میں استعمال ہونے والا پاؤڈر کیلشیم، سٹرونشیم اور بیریم ٹائٹینیٹ جیسے عناصر سے تیار کیا گیا ہے، جسے حرارت دینے کے بعد ایک خاص سیرامک کمپاؤنڈ میں تبدیل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ مرکب نہ صرف صفائی کرتا ہے بلکہ دانتوں کی سطح پر معدنی تہہ بنا کر اینامل اور ڈینٹن کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ نئی سائنسی پیش رفت مستقبل میں اورل کیئر کو بدل سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پاؤڈر میں شامل معدنیات دانتوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یعنی جہاں ایک طرف یہ دانت صاف اور سفید کرتا ہے، وہیں دوسری طرف ان کی ساخت کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ یوں یہ صرف خوبصورتی نہیں بلکہ صحت کا بھی خیال رکھتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ یہ پاؤڈر منہ میں موجود نقصان دہ جراثیم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے مسوڑھوں کی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ایجاد صرف دانتوں کی خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ مجموعی زبانی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

اگرچہ یہ پروڈکٹ ابھی عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں، لیکن ماہرین پُر امید ہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی روزمرہ استعمال کا حصہ بن سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا توہمیں دانت سفید کرنے کے لیے نقصان دہ کیمیکلز پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، اور ایک ہی پروڈکٹ سے صفائی، مضبوطی اور حفاظت تینوں فوائد حاصل کیے جا سکیں گے۔

Share On Social Media

KARACHI

اسمبلی کمیٹی کے الیکٹرک پر شدید برہم: سی ای او کے وارنٹ گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ

کراچی میں جاری غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بحران پر سندھ اسمبلی کی خصوصی

Read More

فیڈریشن ہاؤس کلفٹن میں “ویمنز لیڈرشپ اینڈ اکنامک فورم” کا کامیاب انعقاد

، فیڈریشن ہاؤس کلفٹن میں قائدین، جدت پسندوں اور سماجی رہنماؤں کا ایک اعلیٰ سطحی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی بے قابو، آسٹریلیا کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کرلی

آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی

Read More

واٹس ایپ پلس صارفین کے لیے ایموجی ری ایکشنز میں بڑی سہولت

واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے نئی تخصیصی سہولت متعارف کرادی ہے، جس کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.