چاند پر قبضے کی دوڑ، چین کی ڈیڈ لائن کے بعد خلائی مقابلہ مزید تیز

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس کے درمیان خلا کی نئی دوڑ تیز ہو گئی ہے، جہاں دونوں کی کمپنیاں انسانوں کو دوبارہ چاند پر اتارنے اور وہاں مستقل رہائش قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اس عالمی مقابلے میں چین بھی شامل ہے، جس نے 2030 تک چاند پر اپنا انسان بردار مشن بھیجنے کا واضح ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس سے خلائی میدان میں مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک حالیہ انٹرویوز اور کمپنی اجلاسوں میں کہہ چکے ہیں کہ وہ چاند پر ”مون بیس الفا“ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا منصوبہ ہے کہ چاند کی سطح پر ایک ایسا لانچ سسٹم بنایا جائے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے قیام میں مدد دے۔ مسک کا وژن ہے کہ مستقبل میں ایک ملین تک سیٹلائٹس پر مشتمل اے آئی کمپیوٹنگ نیٹ ورک خلا میں قائم کیا جائے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ مسک ماضی میں زیادہ توجہ مریخ پر انسانی آبادی بسانے پر دیتے رہے ہیں۔ 2002 میں کمپنی کے قیام سے لے کر گزشتہ سال تک وہ مریخ مشن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے رہے اور چاند کو نسبتاً کم اہمیت دیتے تھے۔ تاہم اب ان کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کمپنی ”بلیو اوریجن“ کے بانی جیف بیزوس نے بھی چاند کے مشن پر توجہ بڑھا دی ہے۔ کمپنی نے اپنی سب آربیٹل سیاحت کی سرگرمیاں محدود کر کے وسائل کو ”بلو مون“ لینڈر پروگرام کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ اس سال ایک مشن بغیر انسانوں کے چاند کی سطح پر بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں خلا بازوں کی لینڈنگ کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ تمام سرگرمیاں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہیں، جس کا مقصد چاند پر دوبارہ انسانوں کو بھیجنا اور وہاں طویل مدتی قیام کی تیاری کرنا ہے۔ ناسا اس منصوبے کو مریخ کے مستقبل کے مشنوں کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے۔ ادارہ دونوں کمپنیوں کو اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے لینڈرز تیار کر سکیں۔

موجودہ منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں اسپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ خلا بازوں کو چاند تک لے جائے گا۔

امریکا اس دوڑ کو چین کے مقابلے کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے، کیونکہ چین نے 2030 تک چاند پر اپنے خلا باز اتارنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی کمپنی نے پہلے چاند پر بنیادی ڈھانچہ قائم کر لیا تو اسے مستقبل میں وہاں سرگرمیوں کے استعمال اور سمت کے تعین میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

اسپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ ابھی تک مکمل طور پر مدار میں کامیاب تعیناتی نہیں کر سکا، تاہم 2023 سے اب تک اس کے متعدد تجرباتی لانچ ہو چکے ہیں۔

آئندہ برسوں میں چاند پر انسان بردار لینڈنگ کا ہدف رکھا گیا ہے، مگر صنعت کے کئی ماہرین اسے ایک مشکل ٹائم لائن قرار دیتے ہیں۔ راکٹ کو مدار میں ایندھن بھرنے جیسے نئے طریقوں کی آزمائش اور چاند کی ناہموار سطح پر محفوظ لینڈنگ جیسے اہم مراحل سے گزرنا ہوگا۔

ادھر بیزوس نے سوشل میڈیا پر کچھ علامتی پیغامات بھی شیئر کیے، جن میں کچھوے اور خرگوش کی مشہور کہانی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بلیو اوریجن کا نصب العین بھی ”قدم بہ قدم، مضبوطی سے“ ہے، جو طویل مدتی اور بتدریج پیش رفت کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسک اور بیزوس کے درمیان یہ مسابقت صرف ان کی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے امریکی خلائی شعبے پر پڑیں گے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی نئی کمپنیاں بھی چاند سے متعلق منصوبوں میں سرگرم ہو رہی ہیں۔

یوں چاند ایک بار پھر عالمی طاقتوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان مقابلے کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں سائنسی تحقیق، تجارتی مفادات اور جغرافیائی حکمت عملی سب ایک ساتھ جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

پاکستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ

Read More

ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی ٹاؤن ویسٹ کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ویسٹ سے اہم ملاقات

کراچی: یوتھ اسپورٹس اور کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی

Read More

TECHNOLOGY

ڈیپ فیک کیا ہے؟ جعلی ویڈیوز کی پہچان کیسے کی جائے؟

مصنوعی ذہانت نے جہاں زندگی کے کئی شعبوں میں سہولت پیدا کی ہے، وہیں اس

Read More

آپ کے بچے کے نام پر بھی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھل سکتا ہے، طریقہ کیا ہے؟

ایزی پیسہ نے 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.