پیسے لو اور واپس جاؤ: قطر میں محصور افغان اتحادیوں کو امریکا کا ’دھوکا‘

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے قطر میں موجود ایک کیمپ کو بند کرنے کی تیاری کے دوران وہاں پھنسے افغان شہریوں کو اپنے ملک واپس جانے کے لیے مالی ادائیگی کی پیشکش شروع کر دی ہے۔ امریکا کی اس پیشکش کو انسانی حقوق کے اداروں اور بعض سیاست دانوں کی جانب سے ’بڑا دھوکا‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

قطر میں سابق امریکی فوجی اڈے میں قائم ’کیمپ اس السیلیہ‘ میں گزشتہ سال کے آغاز سے 1100 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ یہ وہ افغان شہری ہیں جن کی امریکا میں آبادکاری کا عمل روک دیا گیا تھا، کیونکہ ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اِن کی دوبارہ آبادکاری معطل کر دی تھی۔

ان افراد میں ایسے شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے دوران امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔ یہ افغان شہری طالبان حکام کی جانب سے ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف کے باعث امریکا منتقل ہونا چاہتے تھے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ کیمپ میں موجود افراد میں عام شہری پناہ گزین اور وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی افواج کے ساتھ خصوصی آپریشنز میں خدمات انجام دیں۔ بعض امریکی فوجیوں کے اہل خانہ بھی ان پناہ گزینوں میں موجود ہیں۔

ان تمام افراد کا مؤقف ہے کہ اگر ان افراد کو افغانستان واپس بھیجا گیا تو انہیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی میں ہونے والی سماعت کے دوران ڈیموکریٹ ارکان نے اس منصوبے پر سخت تنقید کی۔

کمیٹی کی سینیئر ڈیموکریٹ رکن سڈنی کاملجر ڈوو نے اسے افغان اتحادیوں کے ساتھ دھوکا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جنہوں نے امریکا کے ساتھ تعاون کیا، انہیں اس طرح واپس بھیجنا درست اقدام نہیں۔

دوسری جانب جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ایس پال کپور نے کہا کہ تقریباً 150 افراد اس مالی پیشکش کو قبول کر چکے ہیں، تاہم انہیں یہ معلوم نہیں کہ افغانستان واپس جانے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان شہریوں کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جا رہا۔ ان کے مطابق کچھ افراد اپنی مرضی سے واپس گئے ہیں اور کسی کو مجبور نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ان افراد کو تیسرے ممالک میں منتقل کرنے کے لیے بھی بات چیت کر رہا ہے کیونکہ انہیں غیر معینہ مدت تک کیمپ میں رکھنا مناسب نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ادائیگی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ’افغان ایویک‘ نامی اتحاد کے سربراہ شان وان ڈائیور نے رائٹرز کو بتایا کہ مرکزی درخواست گزار کو 4500 ڈالر اور اس کے ساتھ جانے والے ہر اضافی فرد کو 1200 ڈالر کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر اسے رضاکارانہ واپسی کہا جا رہا ہے، لیکن کیمپ کے عملے کی جانب سے افغانوں کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ یہ پیشکش قبول کر لیں کیونکہ تیسرے ملک میں منتقلی غیر یقینی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ کیمپ کو مارچ کے آخر تک بند کرنے کا منصوبہ ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی، وزیر بحری امور کا اظہار اطمینان

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کی کارکردگی پر اطمینان کا

Read More

کراچی کے عوام کی محرومیوں کا دور ختم، اب تعمیر و ترقی کے زمانے کا آغاز ہوگا، خالد مقبول صدیقی

شہر قائد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر ذمہ داران کا

Read More

TECHNOLOGY

جعلسازی کی نئی مہم، 30 ہزار اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف!

تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویتنام سے آپریٹ کی جانے والی

Read More

گوگل کروم میں سکیورٹی مسائل کو ختم کرنے کیلئے نئی اپ ڈیٹ جاری

گوگل نے کروم ویب براؤزر میں موجود متعدد سکیورٹی مسائل کو ختم کرنے کے لیے نئی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.