بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع، حسینہ واجد حکومت گرائے جانے کے بعد سے انتخابات تک کا غیر معمولی سفر

بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے، جبکہ جولائی نیشنل چارٹر سے منسلک آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم بھی ساتھ ہی منعقد کیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ کے مطابق پولنگ جمعرات کی صبح ساڑھے 7 بجے شروع ہوئی۔ شیرپور-3 کی نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ ہونے کے بعد 300 میں سے 299 حلقوں میں رائے دہی ہو رہی ہے۔

طارق رحمان کو کامیابی کا مکمل یقین، ووٹ ڈالنے کے بعد بڑا بیان

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور ڈھاکہ-17 سے جماعت کے انتخابی نشان ’دھان کی بالی‘ کے امیدوار طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی کامیابی کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’100 فیصد پُرامید‘ ہیں کہ کامیابی ان ہی کی ہوگی۔

طارق رحمان نے جمعرات کی صبح گلشن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اس دن کا ایک دہائی سے زیادہ  عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ملک میں ’ایک نئے جمہوری بنگلہ دیش‘ کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

رات کے دوران پیش آنے والے چند چھوٹے واقعات کے حوالے سے سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر اور سخت کارروائی کی، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

انہوں نے ووٹرز اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پورا دن پولنگ اسٹیشنز پر مستعد رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور شرکت کسی بھی ’سازش کو ناکام بنانے‘ میں مددگار ثابت ہوگی۔

انتخابی نتائج سے متعلق سوال پر طارق رحمان نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت ’کامیابی کے لیے مکمل طور پر پُرامید‘ ہیں۔

طارق رحمان نے کہا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو امن و امان کی بہتری اولین ترجیح ہوگی تاکہ عام شہری خود کو ملک میں محفوظ محسوس کریں۔

انہوں نے خواتین کی شمولیت اور بااختیار بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی ممکن نہیں۔

ملک بھر میں ووٹنگ کے مجموعی ماحول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، وہ صورتحال کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر طارق رحمان نے ملک کے لیے  پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

زندگی کا پہلا ووٹ

بنگلہ دیش بھر میں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل پُرامن ماحول میں جاری ہے، جہاں نوجوانوں سے لے کر سیاسی قائدین تک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ مراکز پر 300 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، اور اس جمہوری عمل میں شہریوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

ڈھاکہ کے مختلف پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جہاں وقارالنسا نون اسکول اینڈ کالج کی طالبہ عافیہ جنت نے اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

ٹیکاٹولی کے قمرالنسا گرلز ہائی اسکول پولنگ سینٹر کے باہر اپنی والدہ کے ہمراہ کھڑی عافیہ نے اس موقع کو اپنی نسل کے لیے غیر معمولی قرار دیا۔

’جولائی کی تحریک اور اس میں دی جانے والی قربانیوں نے اس انتخاب کو ایک خاص معنی دے دیا ہے، پہلی بار شہری حق استعمال کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا اور پولنگ سینٹر کا ماحول منظم اور سازگار تھا۔‘

عافیہ کے مطابق نوجوان ووٹرز کے لیے یہ انتخاب محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ طلبا تحریک کے تسلسل کی علامت بھی ہے جس نے ملک کی سیاسی سمت کو بدل کر رکھ دیا۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں

سیاسی قیادت نے بھی مختلف علاقوں میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

نیشنل سٹیزنز پارٹی یعنی این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام نے اے کے ایم رحمت اللہ یونیورسٹی کالج میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، ادھر بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے میرپور کے منی پور ہائی اسکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ آئیورس ایجابس نے بھی ڈھاکہ میں پولنگ کے آغاز کا مشاہدہ کیا اور اسے بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی انتخابات اور ریفرنڈم کا بیک وقت انعقاد ملک کے جمہوری عمل کی اہم پیش رفت ہے، اور مبصرین ملک بھر میں ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے

مجموعی طور پر انتخابی دن کو نوجوانوں کے جوش، سیاسی قیادت کی شرکت اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی نے ایک اہم جمہوری مرحلے کی صورت دے دی ہے، جسے کئی شہری مستقبل کی سیاسی سمت کے تعین میں فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

قومی پارلیمان کے 13ویں عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے صبح 7 بج کر 30 منٹ پر ووٹنگ کے باقاعدہ آغاز سے ایک گھنٹہ قبل ہی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ متعدد مراکز پر جشن کا سا ماحول تھا، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات تھے۔

حکام کے مطابق انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 2,028 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 1,755 جماعتی امیدوار اور 273 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ امیدواروں میں 83 خواتین (63 جماعتی، 20 آزاد) اور 1,946 مرد شامل ہیں۔

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، جن میں قریباً 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی نگرانی اور سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے 69 ریٹرننگ افسران اور 598 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 85 ہزار 225 پولنگ اہلکار ووٹنگ کے عمل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایک لاکھ 3 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، 1 لاکھ 87 ہزار 603 پولیس اہلکار اور 9,349 ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB)، بحریہ، فضائیہ، کوسٹ گارڈ اور انصار کے اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

یورپی یونین سمیت بین الاقوامی مبصرین بھی مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث ان انتخابات کو اندرون اور بیرون ملک گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں آج انتخابات، حسینہ واجد حکومت گرائے جانے کے بعد سے الیکشن تک کا غیر معمولی سفر

5 اگست 2024 سابق وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کا حکومت میں آخری دن تھا جب پُرتشدد مظاہروں کے بعد حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا، اور ایک عبوری نظام نے اس کی جگہ لی جس کی سربراہی گرامین بینک چھوٹے قرضوں سے شہرت پانے والے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے حصے میں آئی۔ حسینہ واجد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئیں جبکہ بنگلہ دیش میں عدالتی ٹرائل کے ذریعے اُنہیں سزائے موت دی گئی۔

سب سے مُشکل سوال یہ تھا کہ ملک میں عالمی طور پر قابلِ قبول آئینی اور سیاسی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات کب اور کیسے کرائے جائیں۔

آج بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہیں، ملک بھر سے لوگ بسوں اور ٹرینوں پر سوار کر اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ ڈالنے پہنچ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بُنیادی طور پر 3 سیاسی جماعتیں، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعت اِسلامی مدمقابل ہیں۔

جماعتِ اِسلامی بنگلہ دیش نے حسینہ واجد کے دور میں ایک مُشکل وقت گزارا ہے، جب 2010 میں بننے والے ٹربیونلز کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔

بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک غیر معمولی موڑ پر منعقد ہو رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخابی معرکہ ہے جس نے پورے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

انتخابی فضا میں روایتی طاقت کے مراکز کمزور ہوئے ہیں جبکہ نئی جماعتیں اور نئے بیانیے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس بار مقابلہ محض اقتدار کا نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی ڈھانچے، جمہوری سمت اور سماجی ترجیحات کے تعین کا بھی ہے۔

اہم سیاسی جماعتیں اور مقابلے کی نوعیت

اس انتخاب میں سب سے نمایاں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے جو  تبدیلی اور گورننس اصلاحات کا نعرہ لگا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی مذہبی و سماجی اقدار پر مبنی نظام کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں۔

تیسری قابلِ ذکر قوت نیشنل سٹیزن پارٹی ہے، جو نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے ابھری ایک اصلاح پسند جماعت سمجھی جا رہی ہے۔

سابق حکمران جماعت عوامی لیگ اس انتخابی دوڑ میں مؤثر طور پر موجود نہیں، جس سے سیاسی مقابلہ ایک نئے توازن کی طرف مڑ گیا ہے۔

بی این پی کا منشور: معیشت، ماحولیات اور حکمرانی

بی این پی کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور شفاف حکمرانی ہے۔ پارٹی نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا وعدہ کر رہی ہے۔

اس کے منشور میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ شامل ہے۔ بی این پی بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی نظام کی مضبوطی اور ریاستی اداروں میں شفافیت کے قیام کو بھی بنیادی اہداف کے طور پر پیش کررہی ہے۔

جماعتِ اسلامی کا بیانیہ: سماجی نظم اور اخلاقی ریاست

جماعتِ اسلامی اپنی مہم میں ایک ’محفوظ اور اخلاقی بنگلہ دیش‘ کا تصور پیش کررہی ہے۔ اس کا زور معاشرتی اقدار، قانون کی عملداری اور کرپشن کے خاتمے پر ہے۔ پارٹی سماجی انصاف، کم آمدنی والے طبقات کے تحفظ اور فلاحی پروگراموں کی توسیع کی بات کرتی ہے۔

اس کے بیانیے میں مذہبی شناخت اور روایتی سماجی ڈھانچے کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس کی بعض پالیسیوں سے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP): اصلاحات اور نوجوانوں کی آواز

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نسبتاً نئی جماعت ہے جو 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد نمایاں ہوئی۔ اس کا منشور جمہوری اصلاحات، آئینی توازن، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کے گرد گھومتا ہے۔

پارٹی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع اصلاحات، سب کے لیے صحت کی سہولیات اور جدید تعلیمی نظام کے قیام کی بات کرتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ این سی پی خاص طور پر شہری نوجوان ووٹرز میں مقبولیت حاصل کررہی ہے جو روایتی سیاست سے ہٹ کر شفاف اور جوابدہ نظام چاہتے ہیں۔

انتخابی نعرے اور عوامی ترجیحات

مجموعی طور پر انتخابی مہم میں جو موضوعات نمایاں ہیں ان میں روزگار، انصاف، شفاف حکمرانی، تعلیم، صحت اور شہری آزادی شامل ہیں۔ نوجوان ووٹرز جمہوری حقوق اور معاشی مواقع کے خواہاں ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں معاشی استحکام اور سماجی تحفظ اہم مطالبات ہیں۔

خواتین اور اقلیتی حقوق بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخاب محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی سمت کے تعین کا بھی ذریعہ ہے۔

حسینہ واجد کے بعد کا سیاسی ماحول

شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوا ہے جس نے نئی قوتوں کو ابھرنے کا موقع دیا۔ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری، آزاد انتخابی عمل اور جمہوری بحالی کی امیدیں اس انتخاب سے وابستہ ہیں۔ تاہم سیاسی تقسیم گہری ہے اور مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے اور جمہوری روایات کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ پورا انتخابی منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئے سیاسی دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں عوام کی ترجیحات، نوجوانوں کی شرکت اور گورننس کے معیار آئندہ برسوں کی سمت متعین کریں گے۔

حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہونا اور عوامی احتجاج

5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں ایک طلبہ اور عوامی احتجاج کے دوران وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دیا اور ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔

یہ احتجاج ابتدا میں صرف سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کی اصلاح کے لیے شروع ہوا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گیا جس نے 15 سالہ اقتدار ختم کردیا۔ احتجاج شدت پکڑ گیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اور بالآخر حسینہ واجد کو مستعفی ہونا پڑا۔

عبوری حکومت کا قیام اور آئینی خلا

حسینہ واجد کے استعفیٰ کے بعد ملک میں آئینی خلا پیدا ہوا کیونکہ بنگلہ دیش کے موجودہ آئین میں براہِ راست نگران حکومت کے قیام کا واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔

اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے سنبھالی۔ عبوری حکومت نے امید ظاہر کی کہ وہ ملک میں جمہوری بحالی اور شفاف انتخابات کا عمل مکمل کرے گی، اور اسی تناظر میں انتخابی تاریخوں اور اصلاحات پر مباحثے شروع ہوئے۔

سیاسی عدم استحکام اور اجتماعی کشمکش

اس عبوری دور میں سیاسی فضا انتہائی کشیدہ رہی۔ بنگلہ دیش بھر میں سیکیورٹی خدشات، احتجاج، اور سیاسی تناؤ برقرار رہے۔ سابق حکمران پارٹی عوامی لیگ پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے تحت اس پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہو گئی اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے پائی۔

اس پر شیخ حسینہ اور ان کے حامیوں نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا، حتیٰ کہ بائیکاٹ اور عدم استحکام کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

انتخابی تاریخوں کا اعلان اور تیاری

عبوری حکومت کی قیادت نے عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے واضح کیاکہ انتخابات رمضان سے پہلے، یعنی فروری 2026 میں ہوں گے، تاکہ آئینی تقاضے اور اصلاحاتی عمل مکمل کیا جا سکے۔

الیکشن کمیشن نے بھی 12 فروری 2026 کو قومی انتخابات کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کیا، جس میں لاکھوں ووٹرز مختلف حلقوں سے پارلیمنٹ کے ارکان منتخب کریں گے۔

انتخابی تیاریوں میں چیلنجز

انتخابات تک پہنچنے کا عمل آسان نہیں رہا۔ سب سے بڑا چیلنج ووٹر فہرستوں کی نئے سرے سے تیاری، نئے اور پہلی بار ووٹرز کا اندراج، اور انتخابی ضوابط کی تیاری تھی، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے فہرستوں اور نظام میں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ سیاسی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات پرامن اور محفوظ طور پر ہو سکیں۔

سیاسی منظرنامہ اور عوامی توقعات

یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک اہم جمہوری مرحلہ ہیں کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام ایک نئی سیاسی ترتیب کے تحت ووٹ ڈال رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں طویل عرصے تک انتخابی عمل ایک ایسے سیاسی تسلسل کے تحت چلتا رہا جہاں ریاستی ڈھانچہ، بیوروکریسی اور انتخابی نظم و نسق پر حکمران جماعت کا واضح اثر سمجھا جاتا تھا۔

’نئی سیاسی ترتیب‘ سے مراد یہ ہے کہ اس بار وہی انتظامی و سیاسی تسلسل موجود نہیں، بلکہ اقتدار کا ڈھانچہ احتجاجی تبدیلی کے بعد ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔ جب کہ سابق حکمران پارٹی انتخابات میں شامل نہیں ہے۔

عوام خصوصاً نوجوان ووٹرز جمہوری بحالی، آئینی اصلاحات، انصاف اور معاشی ترقی کی امید رکھتے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور حکومت عبوری طور پر انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی میں بارش کا 41 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارش کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔ محکمہ

Read More

TECHNOLOGY

ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی گئی امریکی اے آئی ٹیکنالوجی ’پیلینٹیر ماون‘ کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سافٹ ویئر کمپنی ’پلانٹیر ٹیکنالوجیز‘ کی تعریف کے

Read More

میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.