غزہ میں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، انسانی جسم بھاپ بن گئے

غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل پر جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات سے متعلق ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض حملوں میں ایسے ہتھیار استعمال ہوئے جن کے اثرات معمول کے دھماکوں سے کہیں زیادہ تباہ کن تھے۔

الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بعض حملوں کے بعد ہزاروں افراد کے جسم مکمل طور پر غائب ہو گئے۔ ان حملوں میں انسانی جسم مکمل طور پر ختم ہو گئے اور کئی مقامات پر لاشیں ملنے کے بجائے صرف خون کے نشانات یا جسم کے ٹکڑے پائے گئے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق کم از کم 2 ہزار 842 افراد کے جسم مکمل طور پر تحلیل ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد اس سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں غزہ کے سول ڈیفنس حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں امدادی ٹیموں کو لاشیں نہیں ملیں بلکہ صرف گوشت کے چھوٹے ٹکڑے یا خون کے دھبے ہی مل سکے۔

الجزیرہ کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں تھرمل اور تھرموبیرک ہتھیار استعمال ہوئے، جنہیں عام طور پر انتہائی مہلک سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ہتھیاروں میں دھماکے کے دوران درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جس کے باعث انسانی جسم لمحوں میں جل کر ختم ہو سکتا ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ بعض بموں کا درجہ حرارت تین ہزار پانچ سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملوں میں امریکی ساختہ ’ایم کے 84‘ سمیت دیگر بم استعمال ہوئے، جن میں ٹرائٹونل نامی دھماکہ خیز مواد شامل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مواد میں ایلومینیم، ٹائٹینیم اور میگنیشیم پاؤڈر شامل ہونے سے دھماکے کی شدت اور حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک روسی فوجی ماہر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھرموبیرک اور ویکیوم بم صرف ہلاکتوں کا سبب نہیں بنتے بلکہ انسانی جسم کو مکمل طور پر نابود کر دیتے ہیں۔

یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں انسانی صورتحال پہلے ہی سنگین بتائی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر جنگی قوانین کی پابندی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں اسرائیل شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اپنے مؤقف میں یہ کہتا آیا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طرح کے الزامات کی آزاد اور شفاف تحقیقات پر زور دیتی رہی ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا واقعی ممنوعہ یا غیر معمولی ہتھیار استعمال کیے گئے یا نہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں جانوروں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

کراچی کے ناردرن بائی پاس پر قائم ’عوام دوست مویشی منڈی‘ کو ایک ماہ مکمل

Read More

کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی، وزیر بحری امور کا اظہار اطمینان

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کی کارکردگی پر اطمینان کا

Read More

TECHNOLOGY

پاکستان میں موبائل فون مزید مہنگے، قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں،

Read More

جعلسازی کی نئی مہم، 30 ہزار اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف!

تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویتنام سے آپریٹ کی جانے والی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.