دبئی میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل نے یوم یکجہتی کشمیر 2026 کے موقع پر اپنے احاطے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ اس اجتماع میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے بہت سے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں کشمیر کاز کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو اجاگر کیا گیا۔







اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل حسین محمد نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے بنیادی انسانی اور اصولی تشویش ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے لوگوں کا حق خود ارادیت ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے، اور اسے پرامن اور جمہوری طریقوں سے حاصل کیا جانا چاہیے۔
قونصل جنرل نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حل نہ ہونے والا مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے معتبر اداروں کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے IIOJK میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں کشمیری عوام کے بنیادی انسانی وقار کو مجروح کرتی ہیں۔ امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کے لیے تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور دیرپا حل ضروری ہے۔
قونصل جنرل نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی، سیاسی اور انسانی حمایت جاری رکھے گا۔
مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ IIOJK میں انسانی حقوق کے تحفظ، شہری آزادیوں کی بحالی اور تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے فعال اور تعمیری کردار ادا کرے۔ تقریب میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر پر خصوصی دستاویزی فلم کی نمائش بھی کی گئی۔


































