ایپ اسٹورز میں عریاں تصاویر بنانے والی ایپس کے چھپے ہونے کا انکشاف

مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں کئی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور اس سے جڑی تشویش اورسنگین خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

دسمبر میں ان خدشات کو اس وقت تقویت ملی جب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک پر الزام لگا کہ وہ صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کر رہا تھا۔ بعد میں کمپنی نے اس کی حفاظتی حدود بہتر بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن گیجیٹس 360 کے مطابق اب ایک نئی رپورٹ نے اے آئی سے چلنے والی ”نیوڈیفائنگ“ ایپس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔

ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ (ٹی ٹی پی) جوکہ واچ ڈاگ تنظیم کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی سے وابستہ ہے، اس کی ایک تحقیق کے مطابق درجنوں ایسی موبائل ایپس آن لائن دستیاب ہیں جو صارف کی اپ لوڈ کردہ تصاویر سے مکمل یا جزوی طور پر بغیر کپڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر ایسی کم از کم 55 اور ایپل کے ایپ اسٹور پر 47 ایپس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ایپس مجموعی طور پر دنیا بھر میں 705 ملین سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہیں۔ ایپ اینالیٹکس فرم ایپ میجک کے اعداد و شمار کے مطابق، ان ایپس نے اب تک تقریباً 117 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ڈویلپرز مالی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے مطابق، یہ ایپس گوگل اور ایپل کے پلیٹ فارمز پر ”نیوڈیفائی“ اور ”انڈریس“ جیسے الفاظ تلاش کرنے سے سامنے آئیں، اور بعض صورتوں میں یہ ایپس سرچنگ کے نتائج میں نمایاں طور پر دکھائی دیں۔

گیجٹس 360 کے عملے نے بھی ان میں سے چند ایپس کو جانچنے کے لیے مصنوعی طور پر بنائے گئے ماڈلز استعمال کیے اور رپورٹ کے دعوؤں کی تصدیق کی۔ تاہم، صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے پیش نظر ان ایپس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر ایپس بنیادی فیچر کے طور پر تصاویر کو ”عریاں“ دکھانے کی سہولت مفت فراہم کرتی ہیں، جبکہ کچھ ایپس اس سے آگے جا کر افراد کی مشابہت کو فحش مناظر میں پیش بھی کر سکتی ہیں۔

ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شناخت کی گئی ایپس کی فہرست ایپل اور گوگل دونوں کو فراہم کر دی ہے۔

گوگل نے اس معاملے پر گیجٹس 360 کو فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم سی این بی سی کو دیے گئے بیان میں گوگل کے ترجمان نے کہا کہ رپورٹ میں شامل کئی ایپس کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب، ایپل کے ترجمان نے سی این بی سی کو بتایا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی 28 ایپس کو ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

سندھ منیمم ویجز بورڈ نے 60 صنعتوں کے ہنرمندوں کی کم ازکم اجرت میں اضافے کی سفارش کردی

کراچی:  سندھ حکومت نے 60 صنعتوں کے نیم ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ ہنرمند کارکنوں کی کم

Read More

جامعہ اردو کو بیل آؤٹ پیکج دیا جائیگا،وفاقی وزیرتعلیم

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.