امریکی جنگی بیڑہ مشرق وسطیٰ میں داخل، ایران سے ڈیل کے لیے چار شرائط

امریکی جنگی بحری بیڑہ ایران کا گھیراؤ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہوچکا ہے، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی ڈیل کے لیے چار بڑی شرائط منوانا چاہتی ہے۔

ان شرائط میں ایران کے افزودہ یورینیم کو مکمل طور پر ملک سے باہر منتقل کرنا، مقامی سطح پر یورینیم کی افزودگی روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی اور خطے میں پراکسی گروہوں کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری و عسکری پروگرام پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

امریکی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیول بلاکیڈ پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کسی بھی ملک کو تیل برآمد نہ کر سکے۔

اسی حکمت عملی کے تحت امریکی بحری بیڑے کو مشرق وسطیٰ پہنچایا گیا ہے، جس میں ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ بحری بیڑا خطے میں ان ممالک کی نگرانی کرے گا جو ایران سے تیل درآمد کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ بحری جہاز ایشیا پیسیفک خطے سے روانہ ہو کر امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں آنے والے مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہو چکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا کی ایک ”آرماڈا“ ایران کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگی تعیناتی بنیادی طور پر امریکی افواج کے دفاع کے لیے ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی صلاحیت بھی موجود رہے گی۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران میں احتجاجی مظاہروں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث امریکی فوجی نقل و حرکت تیز کی گئی۔

ٹرمپ نے پہلے مظاہرین کے قتل کی صورت میں مداخلت کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق بحری جہازوں کے علاوہ جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرق وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں ایک فوجی مشق کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ فضائی طاقت کی تعیناتی اور برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کرے گا۔

خطے کے دیگر ممالک بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود، زمین یا سمندر ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

یاد رہے کہ امریکا کا اہم فضائی اڈہ الظفرہ متحدہ عرب امارات میں واقع ہے، جو خطے میں مختلف امریکی مشنز کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

کراچی کی مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی

Read More

مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل کا سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران معروف پلیٹ فارم پر سائبر حملہ

معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مالک کمپنی ’اوپن

Read More

اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.