جنوبی اسپین کے علاقے اندلس میں 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اتوار کی شام قرطبہ کے قریب قصبے آدموز کے علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد پورے ملک میں سوگ کی کیفیت ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب مالاگا سے میڈرڈ جانے والی ایک تیز رفتار ٹرین اچانک پٹڑی سے اتر گئی اور مخالف سمت سے آنے والی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں ٹرینیں پٹری سے اتر گئیں اور کئی بوگیاں الٹ کر قریبی ڈھلوان پر جا گریں۔ پولیس نے ابتدائی طور پر 5 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی، تاہم بعد میں تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی۔
اندلس کے ایمرجنسی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 30 کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائیاں رات گئے تک جاری رہیں، کیونکہ بوگیاں بری طرح مڑ چکی تھیں اور مسافر ان کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔
فائر بریگیڈ کے ایک عہدیدار کے مطابق زخمیوں تک پہنچنے کے لیے ملبہ ہٹانا انتہائی مشکل تھا اور بعض اوقات جان بچانے کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑے۔
عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والے مسافروں نے حادثے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ ایک مسافر خاتون نے بتایا کہ زور دار جھٹکے کے بعد ٹرین اچانک رک گئی، روشنی بند ہو گئی اور سامان مسافروں پر گرنے لگا۔ بچوں کے رونے اور زخمیوں کی چیخ و پکار نے منظر کو مزید دل دہلا دینے والا بنا دیا۔ ایک اور مسافر نے کہا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ہارر فلم ہو۔لاگنگ اور کالم نویسی ٹریننگ
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لیے انتہائی دردناک رات ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

شاہِ اسپین فلپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے بھی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے صدر اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے تعزیت کے پیغامات بھیجے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثے کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے بڑے شہروں کے درمیان تیز رفتار ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کے مطابق ٹریک حال ہی میں جدید بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔




































