بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا نے کم از کم ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے، یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور اشاروں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
فاکس نیوز نے نامعلوم امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہو سکتا ہے یا ان 2 کیریئرز میں سے ایک، جو حالیہ دنوں میں نورفوک اور سان ڈیاگو سے روانہ ہوئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکا کے 3 ڈسٹرائرز اور 3 لِٹورل کامبیٹ شپ پہلے ہی خطے میں موجود ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں ایران کے گرد امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا فضائی اور زمینی حملہ آور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کر سکتا ہے، جسے عسکری اصطلاح میں فورس سیٹنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران دسمبر کے اواخر سے شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ مہنگائی میں اضافے اور ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث شروع ہونے والے مظاہرے بعد ازاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے، جن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔





































