بچوں کے لیے ڈارک ویب ہی نہیں، عام سوشل میڈیا بھی خطرہ بننے لگا، والدین کیا احتیاط کریں؟

بچوں کے لیے انٹرنیٹ کی دنیا جہاں تعلیم، تفریح اور معلومات کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے وہیں اس کے پوشیدہ اور غیر محفوظ گوشے ان کے لیے سنگین خطرات بھی پیدا کر رہے ہیں۔ ڈارک ویب پر موجود جرائم پیشہ عناصر بچوں اور نوجوانوں کو مختلف چیلنجز، لالچ اور آن لائن رابطوں کے ذریعے ورغلا کر انہیں نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان سرگرمیوں کی ویڈیوز کو پیسے کے عوض فروخت کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بچوں کو خطرات صرف ڈارک ویب تک محدود نہیں بلکہ روبلوکس، ڈسکارڈ، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے عام آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد آسانی سے اپنے جال میں پھنسا سکتے ہیں۔ ایسے میں والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر توجہ دیں اور انہیں سائبر خطرات سے محفوظ رہنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔

معروف آئی ٹی ایکسپرٹ اور ماہر تعلیم شہزادہ بندے شاہ نے وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں آن لائن دنیا، بالخصوص ڈارک ویب کے بچوں پر اثرات اور سائبر جرائم کے حوالے سے تشویشناک حقائق بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ان کے رویوں میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ڈارک ویب اور عام انٹرنیٹ میں کیا فرق ہے؟

شہزادہ بندے شاہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عام صارفین جس انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہیں، اسے سرفیس ویب کہا جاتا ہے اور ان کے مطابق یہ انٹرنیٹ کے مجموعی ڈیٹا کا صرف 11 فیصد ہے۔ ڈیپ ویب میں اداروں، ریاستوں اور بینکوں کا محفوظ ڈیٹا موجود ہوتا ہے، جبکہ ڈارک ویب مخصوص اور پوشیدہ پروٹوکولز کے ذریعے کام کرتی ہے جہاں صارف اپنی شناخت چھپا کر رابطہ کرسکتا ہے۔

بچوں کو کیسے ورغلایا جاتا ہے؟

آئی ٹی ایکسپرٹ کے مطابق ڈارک ویب کو بعض جرائم پیشہ عناصر، جن میں انہوں نے سائیکوپیتھس اور دھوکا دہی کرنے والوں کا ذکر کیا بچوں اور نوجوانوں کو مختلف چیلنجز اور پیسوں کا لالچ دے کر نقصان دہ اور گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی ویڈیوز کو بعد ازاں معاوضے کے عوض فروخت بھی کیا جاتا ہے۔

تاہم شہزادہ بندے شاہ نے واضح کیا کہ بچوں کے لیے خطرہ صرف ڈارک ویب نہیں ہے۔ ان کے مطابق روبلوکس، ڈسکارڈ، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے عام عوامی پلیٹ فارمز بھی بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں جہاں اجنبی افراد ان سے رابطہ کرکے انہیں آسانی سے ورغلا سکتے ہیں۔

بچے کے رویے میں تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں

والدین کو احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے شہزادہ بندے شاہ نے کہا کہ اگر کوئی بچہ اچانک خوف زدہ، گھبرایا ہوا یا معمول سے ہٹ کر رویہ اختیار کرنے لگے تو والدین کو اسے ڈانٹنے یا فوری طور پر اس کا فون چھیننے کے بجائے اعتماد میں لے کر بات کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق بچے کو ایسا ماحول دینا ضروری ہے جہاں وہ بلا خوف اپنی پریشانی یا آن لائن پیش آنے والے کسی ناخوشگوار واقعے کے بارے میں بتا سکے۔

انہوں نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے غیر مصدقہ لنکس اور اے پی کے فائلیں ہرگز انسٹال نہ کریں۔ بچوں کو بھی سمجھایا جائے کہ وہ آن لائن دوستوں کے ساتھ اپنی موجودہ جگہ، فون نمبر، تصاویر اور پاس ورڈز شیئر نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بچہ بالغ نہ ہوجائے، اسے ذاتی اسمارٹ فون دینے کے بجائے ایسی ڈیوائسز فراہم کی جائیں جن پر والدین کی نگرانی اور پیرنٹل کنٹرول کی سہولت موجود ہو۔ اسی طرح بچوں کے لیے محدود اور والدین کے زیر نگرانی آن لائن اکاؤنٹس بنائے جائیں۔

تعلیمی اداروں کا کردار اور سائبر جرائم کی روک تھام

شہزادہ بندے شاہ نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں سائبر بُلنگ، ڈارک ویب اور آن لائن اسکیمز سے متعلق باقاعدگی سے آگاہی ورکشاپس منعقد کی جانی چاہییں تاکہ بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں بتایا جاسکے۔

پاکستان میں سائبر جرائم کی روک تھام سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) جیسے ادارے موجود ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 بھی دستیاب ہے۔

ان کے مطابق ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) اور جدید تکنیکی ذرائع کے استعمال کے باعث سائبر جرائم کو مکمل طور پر روکنا یا انٹرنیٹ پر ہر قسم کے خطرے کو 100 فیصد بلاک کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا بنیادی حل آگاہی، تعلیمی اداروں میں تربیت اور گھر کی سطح پر بچوں کی مناسب نگرانی میں ہے۔

شہزادہ بندے شاہ کے مطابق والدین کو بچوں پر صرف پابندیاں عائد کرنے کے بجائے انہیں آن لائن دنیا کے خطرات سمجھانے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بروقت آگاہی اور رہنمائی ہی بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں

Read More

ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ

اسلام آباد:  رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا

Read More

TECHNOLOGY

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے آفس کا افتتاح کردیا

گوگل نے پاکستان میں اپنا باضابطہ دفتر قائم کردیا، وزیراعظم شہباز شریف اور گوگل کے

Read More

بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.