حنا جاوید قتل کیس کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آ گئی ہے ، رپورٹ کے مطابق گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے مقتولہ حنا جاوید کے ناخنوں کے نمونوں سے میچ کرگیا۔ ملزمان میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر، سسر فیاض اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد شامل ہیں۔
45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے ملی تھی۔ مقتولہ سینیٹ کے سوشل میڈیا ونگ میں کام کرتی تھیں۔
واقعے کے وقت حنا جاوید کے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، ان کے منہ پر کپڑا بندھا تھا، جبکہ گلے میں بجلی کی تار اور چادر کا پھندا لگا ہوا تھا۔
ڈی این اے رپورٹ کی سمری کے مطابق مقتولہ کے ڈی این اے نمونے ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم سے مطابقت رکھتے ہیں۔ تاہم، مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔




































