لوگ جدید ٹیکنالوجی چھوڑ کر پرانے سسٹمز کی طرف کیوں لوٹ رہے ہیں؟

جب بھی ٹیکنالوجی کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ نیا نظام پرانے نظام سے زیادہ بہتر، تیز اور محفوظ ہوگا لیکن سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے جہاں بعض ماہرین کے مطابق کچھ پرانی ٹیکنالوجیز اس لیے زیادہ محفوظ ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ہیکرز نے انہیں نشانہ بنانا تقریباً چھوڑ دیا ہے۔

فن لینڈ کے معروف سائبر سیکیورٹی ماہر مِکو ہائپونن کئی برس تک جدید ای میل سروسز جیسے جی میل یا ہاٹ میل کے بجائے ایک پرانے ای میل پروگرام ایوڈورا استعمال کرتے رہے۔

یہ پروگرام کئی سال پہلے ہی تکنیکی معاونت سے محروم ہوچکا تھا لیکن ہائپونن کے مطابق اس میں کئی ایسی خصوصیات تھیں جو انہیں پسند تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام مکمل طور پر محفوظ نہیں تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہیکرز کی دلچسپی اس میں ختم ہوگئی کیونکہ زیادہ تر حملہ آور جدید اور زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

ہائپونن اس تصور کو سیکیورٹی بائی اینٹی کوئٹی یعنی قدامت کے ذریعے تحفظ کہتے ہیں جبکہ بعض ماہرین اسے سیکیورٹی بائی آبسولیسنس بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض حالات میں پرانی ٹیکنالوجی اس لیے نسبتاً محفوظ ہوسکتی ہے کیونکہ سائبر مجرموں نے اسے نظر انداز کردیا ہوتا ہے۔

ہیکرز زیادہ تر مقبول نظاموں کے پیچھے جاتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کی دنیا میں زیادہ تر حملہ آور مالی فائدے کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے وہ ایسے نظاموں کو نشانہ بنانا پسند کرتے ہیں جن کے صارفین کی تعداد زیادہ ہو۔

ہائپونن کے مطابق اگر کسی پرانے نظام کو صرف چند درجن افراد استعمال کر رہے ہوں تو مجرموں کے لیے اسے نشانہ بنانے کا فائدہ بہت کم رہ جاتا ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عام صارفین کے لیے جدید، اپ ڈیٹ اور سیکیورٹی پیچز سے لیس سافٹ ویئر استعمال کرنا اب بھی سب سے محفوظ طریقہ ہے۔ پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال ہر صورتحال میں بہتر انتخاب نہیں ہوتا بلکہ یہ مخصوص حالات میں ایک حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

پرانے فون، کم خطرات؟

یہ رجحان صرف ای میل پروگرامز تک محدود نہیں۔

کچھ لوگ اب بھی پرانے موبائل فون استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ جدید اسمارٹ فونز کی طرح پیچیدہ نہیں ہوتے اور ان پر ہیکرز کی توجہ بھی کم ہوتی ہے۔

ہائپونن نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو آج بھی نوکیا 9210 جیسے پرانے فون کا استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ اس فون کے آپریٹنگ سسٹم میں پرانی خامیاں موجود ہوسکتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کے خلاف حملے بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ سائبر مجرم عام طور پر اینڈرائیڈ اور آئی فون جیسے مقبول پلیٹ فارمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

یہ ایک طرح کا سمجھوتا ہے کہ پرانے نظام میں خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن اسے نشانہ بنانے والے حملہ آور بھی کم ہوسکتے ہیں۔

فوجیں بھی پرانی ٹیکنالوجی نہیں چھوڑ رہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی جدید ترین افواج بھی بعض معاملات میں پرانی ٹیکنالوجی کو برقرار رکھتی ہیں۔

برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ دفاعی ماہر تھامس وِدرنگٹن کے مطابق یوکرین جیسے علاقوں میں جنگ کے دوران فوجی اہلکار کاغذی نقشے اور کمپاس استعمال کرتے نظر آئے ہیں کیونکہ انہیں دشمن الیکٹرانک حملوں سے ناکارہ نہیں بنایا جاسکتا۔

ان کے مطابق یہ ’اینالاگ لچ‘  ہے یعنی ایسے نظام جو جدید ٹیکنالوجی کے ناکام ہونے کی صورت میں بھی کام کرتے رہیں۔

روس کی جانب سے سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور جی پی ایس نظام میں مداخلت کی کوششوں کے بعد کئی ممالک نے دوبارہ ایسے متبادل نظاموں پر توجہ دینا شروع کی ہے جو مکمل طور پر سیٹلائٹس پر منحصر نہیں۔

جی پی ایس کے مقابلے میں پرانے ریڈیو نظام

آئرلینڈ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی ایک دلچسپ فیصلہ کیا۔ اگرچہ جدید دور میں طیاروں کی رہنمائی کے لیے جی پی ایس کا استعمال بڑھ گیا ہے لیکن جی پی ایس سگنلز کو جام کیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے آئرلینڈ نے زمین پر موجود پرانے ریڈیو نیویگیشن بیکنز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید عرصے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں متبادل نظام موجود رہے۔

ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دور سے تعلق رکھنے والا ای لوران جیسے ریڈیو نیویگیشن نظام دوبارہ اہمیت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ انہیں جام کرنا جی پی ایس کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔

پرانی مقناطیسی ٹیپ کا دوبارہ عروج

ڈیٹا اسٹوریج کے شعبے میں بھی ایک پرانی ٹیکنالوجی آج تک زندہ ہے جو ہے مقناطیسی ٹیپ۔

یہ ٹیکنالوجی سنہ 1950 کی دہائی میں سامنے آئی تھی لیکن آج بھی بڑی کمپنیاں، تحقیقی ادارے اور سرکاری ادارے بڑی مقدار میں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ سائبر حملوں سے تحفظ ہے۔ اگر کسی کمپنی کے کمپیوٹر سسٹم پر رینسم ویئر حملہ ہوجائے اور ڈیٹا لاک کردیا جائے تو الگ محفوظ رکھی گئی ٹیپ بیک اپ سے معلومات دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ڈیٹا اسٹوریج کمپنی کوانٹم کے سربراہ ہیوز میراتھ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں رینسم ویئر حملوں نے مقناطیسی ٹیپ کی اہمیت دوبارہ بڑھا دی ہے۔

ٹیپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے کمپیوٹر نیٹ ورک سے الگ رکھا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے ہیکرز کے لیے اس تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔

ووٹنگ اور کاغذی نظام پر بحث

ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باوجود کچھ شعبوں میں لوگ اب بھی کاغذی نظام کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں کئی ممالک میں بحث جاری ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جلد فراہم کرتی ہیں جبکہ ناقدین کو خدشہ ہے کہ سائبر حملے انتخابات کی شفافیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ہائپونن کے مطابق ووٹنگ جمہوریت کی بنیاد ہے اور اگر کسی نظام میں کمزوری کا خدشہ ہو تو صرف رفتار کے لیے خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔

کیا پرانی ٹیکنالوجی واقعی بہتر ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب سادہ نہیں۔

نئی ٹیکنالوجی عام طور پر زیادہ طاقتور، تیز اور سہولت فراہم کرنے والی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ پیچیدہ نظام زیادہ حملہ آور راستے بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

اسی لیے بعض حساس شعبوں میں پرانے اور نئے نظاموں کو ملا کر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اصل سبق یہ نہیں کہ لوگ پرانی ٹیکنالوجی پر واپس چلے جائیں بلکہ یہ ہے کہ ہر کام کے لیے جدید ترین نظام ہی ہمیشہ بہترین انتخاب نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی ایک سادہ، پرانا اور نظر انداز کیا جانے والا نظام بھی غیر متوقع طور پر زیادہ مضبوط ثابت ہوسکتا ہے۔

جیسے دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر وہ ٹیکنالوجی دستیاب نہ رہے جس پر ہم مکمل انحصار کرتے ہیں تو ہمارے پاس متبادل کیا ہوگا؟

Share On Social Media

KARACHI

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان

Read More

سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس

Read More

TECHNOLOGY

پاکستانی اے آئی اسٹارٹ اپ کی امریکی کمپنی کو کامیاب فروخت

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کے ابھرتے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو عالمی

Read More

چین کے اے آئی ماڈلز نے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی

چین قمری نئے سال اور اسپرنگ فیسٹیول کی آمد کے موقع پر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.