پاکستان کے معدنی ذخائر، بلاک چین سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان

پاکستان کی معدنی دولت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے بلاک چین (Blockchain) اور ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شفاف اور جدید مالیاتی نظام متعارف کرایا جائے تو ریکوڈک، سیندک اور بلوچستان و خیبرپختونخوا کے دیگر معدنی ذخائر نہ صرف ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا سکتے ہیں بلکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اور مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سونے، تانبے، کرومائٹ اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، تاہم انتظامی مسائل، پالیسی میں عدم تسلسل، شفافیت کے فقدان اور سرمایہ کاری کے لیے غیر یقینی ماحول کے باعث یہ شعبہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاک چین پر مبنی نظام کے ذریعے معدنی منصوبوں کی مالیاتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، رائلٹی کی ادائیگی اور منافع کی تقسیم کا مکمل ریکارڈ محفوظ اور ناقابلِ رد و بدل بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سرمایہ کاروں اور ریگولیٹری اداروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر شفاف معلومات دستیاب ہوں گی، جس سے ماضی میں ریکوڈک جیسے منصوبوں پر پیدا ہونے والے تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ماڈل کے تحت کسی بھی معدنی منصوبے کے لیے الگ خصوصی کمپنی (ایس پی وی) قائم کر کے اس کے مختلف حصوں، جیسے کان کنی، معدنیات کی پراسیسنگ، بجلی و پانی کی فراہمی اور نقل و حمل کے نظام کو ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بڑے سرمایہ کار بلکہ عام پاکستانی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی محدود سرمایہ کے ساتھ ان منصوبوں میں حصہ لے سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر وصول کرتا ہے، لیکن ان رقوم کے لیے پیداواری سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہیں۔ اگر معدنی منصوبوں میں شفاف اور منظم ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا نظام متعارف کرایا جائے تو اوورسیز پاکستانی بھی براہِ راست قومی معدنی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

اقتصادی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی خود معدنیات پیدا نہیں کرے گی، تاہم یہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، مالیاتی شفافیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مؤثر ریگولیٹری نظام، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے حقوق کو یقینی بنا کر پاکستان اپنی معدنی دولت کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کر سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

پاشا کے سینیئر نائب چیئرمین کو قائم مقام چیئرمین مقرر کر دیا گیا: پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA)

پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد مصطفی سید کے خلاف سنٹرل ایگزیکٹو

Read More

بیوٹی سیکٹر میں ایستھیٹک سیفٹی کے لیے فوری ریگولیٹری اقدامات ناگزیر – زہرہ زاہد

ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ویمن اسٹائل، بیوٹی اینڈ اسکن

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ: لنکڈ ڈیوائسز پر چیٹ بند ہو جائے گی، یہ فیچر کس کا راستہ روکنے کے لیے ہے؟

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی پرائیویسی کے لیے نیا فیچر ’ریسٹرکٹڈ چیٹ‘ متعارف کرا

Read More

اے آئی ماڈلز کو درد محسوس ہونے کا دعویٰ، تجربے نے نئی بحث چھیڑ دی

اے آئی کو درد محسوس ہونے کے دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، ایک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.