اسپین کی تاریخ کی ہولناک ترین آگ؛ 12 افراد ہلاک، 23 لاپتہ، جنگلات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل

اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 23 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ آگ ملک کی تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آگ میں سے ایک بن چکی ہے، جبکہ فائر فائٹرز مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اندلس کے ایمرجنسی امور کے سربراہ انتونیو سانز نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص ہسپانوی شہری تھا جبکہ باقی افراد بظاہر غیر ملکی تھے۔

انتونیو کے مطابق ان افراد نے حکام کی جانب سے محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات پر عمل نہیں کیا اور اپنی گاڑیوں میں علاقے سے نکلنے کی کوشش کی، تاہم تیز ہواؤں کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی اور وہ اس کی لپیٹ میں آگئے۔

انتونیو سانز نے کہا کہ متاثرین نے گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کی لیکن آگ نے انہیں گھیر لیا۔

حکام کے مطابق ایک گاڑی میں چار افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ برطانوی شہری تھے کیونکہ گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔

اس کے علاوہ آٹھ افراد اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وہ ایسے راستے پر نکل گئے جو انخلا کے سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں تھا اور جان کی بازی ہار گئے۔ کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی۔

اندلس کے صدر خوان مانوئل مورینو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آگ بارود کی طرح پھیلی۔ یہ ان تیز ترین اور پیچیدہ ترین آگوں میں سے ایک ہے جن کا ہم نے کبھی سامنا کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جمعے کے روز مزید تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

مورینو نے بتایا کہ لاپتا افراد میں کچھ ایسے ہائیکرز بھی ہوسکتے ہیں جو جنگل میں موجود تھے اور اچانک آگ کی زد میں آگئے۔ امدادی کارکنوں کو جائے وقوعہ سے پیدل سفر میں استعمال ہونے والی کئی لاٹھیاں بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ افراد پیدل راستہ تلاش کرتے ہوئے لاپتا ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 2017 میں پڑوسی ملک پرتگال میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ سے مشابہت رکھتا ہے، جہاں شدید گرمی کے دوران 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے نصف اپنی گاڑیوں میں جل کر جان سے گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس سال اسپین میں گرمی کی شدید لہروں نے ملک کے بڑے حصے کو خشک کر دیا ہے، جس کے باعث معمول سے پہلے ہی جنگ میں آگ لگنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

یورپی فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے مطابق رواں برس اب تک تقریباً 57 ہزار ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں کی سالانہ اوسط کا تقریباً نصف ہے، جبکہ یورپی یونین میں اس سال جلنے والے مجموعی رقبے کا 40 فیصد حصہ صرف اسپین میں ہے۔

سالامانکا سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی فائر فائٹر رومان گارشیا نے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ایسی آگ اگست میں دیکھنے کو ملتی تھی، لیکن اب پودے جلد خشک ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں ریکارڈ گرمی کی لہر کے باعث اسپین میں گزشتہ 30 برس کی بدترین جنگلاتی آگ لگی تھی، جس میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر رقبہ جل گیا تھا، جو لندن کے رقبے سے تقریباً دوگنا بنتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

نئے صوبوں کیلئے قومی ڈائیلاگ ناگزیر،ایم کیو ایم کی سیاسی جماعتوں کو دعوت

 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کو قومی

Read More

جشن آزادی کے موقع پر ایکسپورٹرز کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس اینڈ ٹریڈ سپورٹ سسٹم کا افتتاح

اسلام آباد:  ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ) کے تحت جشن آزادی کے موقع

Read More

TECHNOLOGY

بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے

Read More

مصنوعی ذہانت نے کتابوں کے پبلشرز میں افراتفری مچا دی، مصنفین شک کے گھیرے میں

اے آئی کے استعمال نے کتابوں کی اشاعت کی صنعت کے سامنے ایک نیا اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.