مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم، اسٹیک ہولڈرز میں مشاورت کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان

وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد حکومت کی توجہ ایک بار پھر مجوزہ 28ویں آئینی ترمیمی پیکج کی جانب مرکوز ہونے کا امکان ہے، جبکہ محرم الحرام گزر جانے کے بعد اب سیاسی رابطوں اور مشاورت کے عمل میں تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے حکومت کو اپنی اتحادی جماعتوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے محرم الحرام کے بعد اب سیاسی جوڑ توڑ اور بیک ڈور رابطوں کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئینی پیکج میں نئے صوبوں کے قیام، بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانے اور انتخابی اصلاحات سمیت متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔ تاہم ان حساس معاملات پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیے بغیر پارلیمانی منظوری ممکن نہیں ہوگی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق بجٹ مرحلہ مکمل ہونے کے باعث حکومت کے پاس اب آئینی ایجنڈے پر پیشرفت کے لیے نسبتاً زیادہ سیاسی گنجائش موجود ہے۔ اسی تناظر میں اتحادی جماعتوں اور دیگر اہم سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل تیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پارلیمانی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اہم آئینی ترامیم کی منظوری سے قبل بھی کئی ہفتوں تک سیاسی رابطے اور عددی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رہی ہیں، لہٰذا 28ویں آئینی ترمیمی پیکج پر پیشرفت بھی مرحلہ وار انداز میں آگے بڑھنے کا امکان ہے۔

’18ویں ترمیم کے خاتمے سے متعلق خدشات میں کمی‘

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے کہاکہ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں 18ویں ترمیم کے خاتمے سے متعلق خدشات فی الحال کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں اس بات پر غور کیا گیا کہ صوبے وفاقی حکومت کی مالی معاونت کریں۔

ان کے مطابق وفاقی حکومت کو بڑھتی ہوئی ضروریات، بالخصوص دفاعی اخراجات کے باعث اضافی وسائل درکار ہیں۔

احمد ولید کا کہنا تھا کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور گزشتہ برس بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے باعث وفاق کی جانب سے صوبوں سے مالی تعاون کی درخواست کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات میں صوبے بھی حصہ ڈالیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی پر دباؤ موجود تھا کہ وہ وفاقی سطح پر مالی معاونت فراہم کرے۔

سینیئر تجزیہ کار نے کہاکہ اسی دوران مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق مختلف خدشات بھی گردش کرتے رہے، جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل اختیارات محدود کیے جا سکتے ہیں اور مالی وسائل دوبارہ وفاق کے پاس جانے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کسی حد تک اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے، جس کے بعد سندھ اور پنجاب جیسے بڑے صوبوں نے اپنے ترقیاتی بجٹ سے حصہ نکال کر وفاق کو مالی معاونت فراہم کی ہے۔

احمد ولید کے مطابق اس پیشرفت کے بعد 18ویں ترمیم کے خاتمے یا صوبائی اختیارات میں کمی سے متعلق خدشات وقتی طور پر ٹلتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم مستقبل میں حکومت کی جانب سے 28ویں آئینی ترمیم کے خدوخال اور اس کے ممکنہ اثرات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

اس وقت 28ویں آئینی ترمیم کے امکانات کم ہیں، مجیب الرحمان شامی

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ وفاق کو بجٹ کی منظوری کے لیے درکار مالی وسائل صوبوں کی رضامندی سے حاصل ہو گئے ہیں، جس کے بعد بجٹ منظور ہو چکا ہے اور اس میں موجود مالی خلا بھی پر کر دیے گئے ہیں، اس لیے اس وقت 28ویں آئینی ترمیم کے امکانات کم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اب اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے کوئی مؤثر کوشش کی جا سکے گی یا نہیں۔

ان کے بقول انتظامی نظام کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

مجیب الرحمان شامی نے مزید کہاکہ منتخب اداروں کو بار بار مضبوط بنانے اور فعال کردار دینے کی ضرورت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، لیکن اس حوالے سے بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ عملی طور پر کیا پیشرفت ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ فی الحال انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ آنے والے دنوں میں نئی سیاسی ترتیب تشکیل پائے گی اور اسی کے ساتھ ملکی سیاست کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو سکے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، قرآن پاک کے نسخے مکمل طور پر محفوظ رہے

کراچی کے تاریخی تجارتی مرکز میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے میں ایک

Read More

سانحہ گل پلازہ: ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار، جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہوگئی

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں

Read More

TECHNOLOGY

یوٹیوب نے فری صارفین کے لیے بیک گراؤنڈ ویڈیو چلانے کا راستہ بند کر دیا

اگر آپ موبائل پر براؤزر کو منی مائز کر کے یا اسکرین لاک کر کے

Read More

یوٹیوب نے ایک کروڑ ڈالر آمدن والے 16 اے آئی چینلز ڈیلیٹ کر دیے

 یوٹیوب نے رواں سال مصنوعی ذہانت والے چینلز کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اے آئی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.