لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت 3 افراد زیر حراست

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں چھت کے ملبے تلے دب کر 14 بچے ملبے جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ حادثے کے بعد پولیس نے مالک مکان سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں نے سانحہ لاہور میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منگل کے روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں شام 4 بج کر 45 منٹ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جو کچھ ہی دیرمیں سانحے میں بدل گیا، کاہنہ کی تنگ گلی میں واقع ایک گھرمیں ٹیوشن سینٹر قائم تھا، جس میں 30 سے زائد بچے حصولِ تعلیم کے لیے موجود تھے کہ اچانک کمرے کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 14 بچے ملبے تلے دب کر بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ایک ہی گھر سے 3 بہن بھائی جاں بحق اور ایک بھائی زخمی جب کہ ان کے تین کزنز بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے بچوں کی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد مجموعی طور پر 19 بچے ٹی ایچ کیو اسپتال لائے گئے، ان میں سے زیر علاج 5 دیگر بچوں کی حالت بہتر ہے۔

حادثے کے فورا بعد محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی اداروں کے ساتھ اہل محلہ بھی ملبے ہٹانے میں لگ گئے، جہاں سے خاتون ٹیچر سمیت بچوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔

امدادی کارکنوں کے مطابق کئی بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں، جن کے منہ اور ناک سے مٹی نکال کر اسپتال روانہ کیا گیا جب کہ زیادہ تربچوں کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی تاہم زیادہ تربچوں کی حالت نازک ہے، 20 سے زائد افراد کو ملبے سے نکالنے کے بعد ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا۔ ریسکیو کے مطابق متعلقہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی، جو اچانک منہدم ہوگئی۔

حادثے میں جاں بحق اور زخمی بچوں کی تفصیلات

کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ٹی ایچ کیو کاہنہ نے جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کی تفصیلات جاری کردیں۔

جاں بحق ہونے والے بچوں میں 8 سالہ عبداللہ ولد مصطفیٰ، 8 سالہ سلمان ولد وسیم، 9 سالہ عروج دختر مصطفیٰ، 8 سالہ مہنور ولد فاروق، 7 سالہ تشبیہ دختر شہزادہ، 8 سالہ فواد ولد محمد عابد، 11 سالہ ایمان فاطمہ دختر مصطفیٰ، 12 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ عروج دختر مرتضیٰ، 4 سالہ ارتضیٰ، 6 سالہ رمشا، 6 سالہ علی ولد فرمان، 8 سالہ ارحم ولد حسن علی، 7 سالہ دعا دختر گلفام اور 7 سالہ عبداللہ ولد اصغر شامل ہیں۔

ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 6 افراد کی حالت مستحکم ہے، زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضیٰ، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع شام پونے پانچ بجے ملی تھی، علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں اسکول بھی چلتا تھا جب کہ بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کے لیے موجود تھے۔

حادثے کے بعد مالک مکان سمیت 2 افراد زیر حراست

پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے، واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں مالک مکان ریحان، اس کا بھائی محمد فیضان اور مستری عمیر شامل ہے۔

پولیس کی جانب سے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ مکان کی چھت بوسیدہ تھی۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران بھی موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ حاصل کی۔

حکام کے مطابق زخمی بچوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے اسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

دوسری جانب لاہور کے علاقے کاہنہ میں چھت گرنے کے واقعے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرنے والا گھر ڈی ایچ اے بلڈنگ کنٹرولڈ ایریا میں واقع تھا اور اس کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی جا رہی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2023 میں متعلقہ علاقے کی حدود میونسپل کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سے ڈی ایچ اے کے دائرہ اختیار میں شامل کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ایم سی ایل نشتر زون میں بھی مذکورہ گھر کا نقشہ جمع نہیں کرایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے انتظامی ریکارڈ، تعمیراتی منظوریوں اور دیگر متعلقہ معاملات کی مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جب کہ ذمہ داریوں کے تعین کے لیے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا اظہار افسوس

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور حادثے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا ہے۔

وزیراعظم نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

صدر مملکت کا دکھ کا اظہار

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے لاہور کاہنہ واقعے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے انتہائی افسوسناک ہے، ایسے سانحات کے تدارک کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

مریم نواز نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ اس تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں، الفاظ اس درد کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں جب کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 20 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کی اموات ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مریم نواز نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لئے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر کا سانحہ کاہنہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں متعدد بچے متاثر ہوئے، واقعے کے بعد تقریباً 20 بچے ایمرجنسی میں منتقل کیے گئے، حادثے میں 14 بچے جاں بحق ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 9 لڑکے اور 5 لڑکیاں شامل ہیں۔

خواجہ عمران نذیرنے بتایا کہ 6 بچے معمولی زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال میں طبی امداد جاری ہے، زخمی بچوں کو ایمرجنسی میں فوری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ٹک ٹاک نے مختصر ڈراموں کی نئی ایپ متعارف کرادی

ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا سے باہر مختصر تفریحی مواد کے میدان میں قدم بڑھاتے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.